LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران معاہدہ اور امن مذاکرات میں تعطل

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران معاہدے پر دستخط کیے جانے کے ساٹھ روز گزرنے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات شدید تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی یادداشتِ مفاہمت کی مدت ختم ہونے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
تہران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے جانے کے پورے ساٹھ دن گزر جانے کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک نئی سیاسی اور سفارتی دلدل میں پھنس چکے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے مابین امن مذاکرات کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر بے یقینی کی کیفیت پیدا کر دی ہے اور ماہرین کا ماننا ہے کہ سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ اور دیگر سرکردہ نشریاتی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی ہے اور نئے چیلنجز سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی یادداشتِ مفاہمت کی مدت بھی بظاہر ختم ہو چکی ہے جس کی وجہ سے صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر گئی ہے۔ نیویارک ٹائمز اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق دونوں فریقین ایک وسیع تر معاہدے کے لیے مقررہ ڈیڈ لائن سے گزر چکے ہیں جو کہ جنگ کے خاتمے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی تھی۔ ایران کے ایک ترجمان نے بھی دوٹوک انداز میں اس بات کی تردید کر دی ہے کہ امریکہ کے ساتھ اس یادداشتِ مفاہمت میں کسی قسم کی توسیع پر کوئی بات چیت کی جائے گی۔ اس پیشرفت کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کی بحالی کے لیے کسی نئے اور موثر سفارتی لائحہ عمل کی اشد ضرورت ہے تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے، تاہم فی الحال دونوں اطراف سے سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے اور کوئی بھی فریق فوری لچک دکھانے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔