LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا امریکی فوجیوں کے لیے 30 ہزار ڈالر انعام کا اعلان

News Image
ایرانی عہدیداران کی جانب سے امریکی فوجیوں کے سر کی قیمت 30 ہزار ڈالر مقرر کرنے کی اطلاعات عالمی سطح پر زیر بحث ہیں۔ اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر سنگین نوعیت کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار کرنے والے افراد کے لیے 30 ہزار ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں آبنائے ہرمز کے قریب فوجی نقل و حرکت اور سیاسی بیانات کے باعث صورتحال انتہائی حساس بنی ہوئی ہے۔ ایرانی قیادت نے اپنے حالیہ بیانات میں امریکی موجودگی کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعلان خطے میں جاری 'سایہ جنگ' (Shadow War) کا ایک حصہ ہو سکتا ہے، جہاں دونوں ممالک براہ راست تصادم سے بچتے ہوئے ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایرانی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی فورسز کی موجودگی نہ صرف ملکی خود مختاری کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ سمندری راستوں پر بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں 30 ہزار ڈالر کی انعامی رقم کا اعلان عالمی برادری کے لیے ایک چونکا دینے والا اقدام ہے، جس پر امریکی حکام کی جانب سے ابھی تک باضابطہ جوابی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کی تاریخ کافی پرانی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ڈرون حملوں، ٹینکرز پر قبضے اور عسکری دھمکیوں کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اعلانات سے خطے میں جنگ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سفارتی چینلز کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں پہلے ہی تعطل کا شکار ہیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے یہ اقدام امریکی صدر اور اعلیٰ عسکری قیادت کے لیے ایک براہ راست پیغام ہے، جس کا مقصد خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ صورتحال عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی پر کیا اثرات مرتب کرے گی، یہ دیکھنا باقی ہے۔