World
روسی سیاستدان لیو شلوسبرگ کو 11 سال قید، یوکرین جنگ پر موقف مہنگا پڑ گیا
روس کی یا بلوکو پارٹی کے سینئر رکن لیو شلوسبرگ کو یوکرین میں جاری جنگ کی مخالفت کرنے پر عدالت نے گیارہ سال سے زائد قید کی سزا سنائی ہے۔ اس عدالتی فیصلے پر عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
روس میں ایک اہم سیاسی پیش رفت کے دوران یا بلوکو پارٹی کے سینئر رکن لیو شلوسبرگ کو عدالت کی جانب سے گیارہ سال اور ایک ماہ قید کی سخت سزا سنائی گئی ہے۔ شلوسبرگ کو یہ سزا یوکرین میں جاری روسی فوجی کارروائیوں کی مسلسل مخالفت کرنے اور حکومتی بیانیے کے خلاف آواز بلند کرنے پر دی گئی ہے۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ روسی حکومت کی جانب سے سیاسی مخالفین کو خاموش کروانے کی ایک سوچی سمجھی مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک میں جنگ مخالف بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ پیر کے روز سنایا گیا، جس کے بعد روس کے سیاسی حلقوں میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ لیو شلوسبرگ طویل عرصے سے روسی سیاست میں ایک فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کے دوران کئی بار حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ تاہم یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے، روسی حکام نے سخت قوانین لاگو کر دیے ہیں جن کے تحت جنگ کے خلاف کسی بھی قسم کی تنقید کو 'غداری' یا 'فوج کو بدنام کرنے' کے زمرے میں لایا جاتا ہے۔ شلوسبرگ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں صرف ان کے سیاسی خیالات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس فیصلے نے عالمی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے روسی عدالت کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اظہار رائے کی آزادی پر ایک کاری ضرب قرار دیا ہے۔ ان تنظیموں کے مطابق روس میں سیاسی اختلاف رکھنے والوں کے لیے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں اور لیو شلوسبرگ کی سزا اس بات کا ثبوت ہے کہ کریملن کسی بھی قسم کی حزب اختلاف کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس طرح کی سخت سزائیں عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے دی جا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں کوئی بھی حکومتی فیصلوں پر سوال نہ اٹھا سکے۔ فی الحال لیو شلوسبرگ کی قانونی ٹیم نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم، روس کے موجودہ عدالتی نظام کے تناظر میں یہ امید بہت کم ہے کہ اس فیصلے میں کوئی بڑی تبدیلی آ سکے گی۔ ملک بھر میں جاری اس صورتحال پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے بین الاقوامی سطح پر سفارتی دباؤ بڑھایا جائے۔