World
روسی سپریم کورٹ کا فیصلہ: یابلوکو پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن
روس کی سپریم کورٹ نے ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل اپوزیشن جماعت یابلوکو پر پابندی کو برقرار رکھا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین کو بھی جیل بھیج دیا گیا ہے جس سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ماسکو میں روسی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں اپوزیشن جماعت 'یابلوکو' پر عائد پابندیوں کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے، جس سے ستمبر میں متوقع پارلیمانی انتخابات کے عمل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے کے بعد سیاسی میدان میں اپوزیشن کی جگہ مزید تنگ ہو گئی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں حکومتی موقف کی تائید کی ہے، جس کے تحت یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ مذکورہ پارٹی انتخابی ضوابط کی خلاف ورزی کر رہی تھی۔ اس پیش رفت نے ملک میں جاری سیاسی کریک ڈاؤن کے بارے میں خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔
اس عدالتی فیصلے کے فوراً بعد یابلوکو پارٹی کے ڈپٹی ہیڈ کو بھی حراست میں لے کر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ یہ گرفتاری سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک حزب اختلاف کی آواز کو دبانے کی ایک منظم کوشش قرار دی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کریملن کی جانب سے ان اقدامات کا مقصد انتخابات میں کسی بھی ممکنہ مضبوط حریف کو راستے سے ہٹانا ہے تاکہ حکمران جماعت کو دوبارہ بلامقابلہ یا کمزور اپوزیشن کے ساتھ کامیابی مل سکے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ حاصل کی ہے جو روس میں جمہوری عمل کی آزادی پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ روس میں طویل عرصے سے اپوزیشن جماعتوں کو مختلف قانونی اور تکنیکی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ یابلوکو پارٹی، جو طویل عرصے سے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتی آئی ہے، اب قانونی جنگ میں تنہا دکھائی دے رہی ہے۔ پارٹی قیادت نے اس عدالتی فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ تاہم، مبصرین کا خیال ہے کہ ستمبر کے انتخابات تک اپوزیشن کی صفوں میں ہونے والی اس توڑ پھوڑ سے سیاسی منظرنامہ مکمل طور پر حکومتی کنٹرول میں رہے گا، جس سے عوامی سطح پر بھی مایوسی اور بے یقینی کی فضا پھیل رہی ہے۔