Health
پرائیویٹ ہسپتالوں کے مہنگے اخراجات پر پارلیمانی کمیٹی کا اہم اقدام
ایک پارلیمانی کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ نجی ہسپتالوں کے کمروں کے کرائے تھری اسٹار ہوٹلوں سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں۔ صحت کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے علاج معالجہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحت کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان نے جہاں جدید سہولیات کی فراہمی میں اضافہ کیا ہے، وہیں علاج معالجے کے اخراجات میں بھی ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حال ہی میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے نجی ہسپتالوں کی جانب سے مریضوں سے وصول کیے جانے والے بھاری کمرہ کرایوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ سفارش کی ہے کہ ان ہسپتالوں کے کمروں کے نرخ کسی بھی صورت میں تھری اسٹار ہوٹلوں کے کرایوں سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نجی شعبہ صحت ایک منافع بخش صنعت کا روپ دھار چکا ہے اور اس میں نجی ایکویٹی سرمایہ کاری کی بھرمار نے طبی اخراجات کو عام آدمی کی قوت خرید سے باہر کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہسپتالوں میں قیام کے دوران کمروں کے کرایوں کا تعین اکثر من مانی بنیادوں پر کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کو صحت یابی کے دوران مالی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کا یہ مؤقف ہے کہ صحت ایک بنیادی انسانی حق ہے اور اسے مکمل طور پر منافع کمانے والی صنعت کے طور پر نہیں چلایا جا سکتا۔ اگر نجی ہسپتال اپنے اخراجات کو ایک حد کے اندر رکھنے پر مجبور ہوں گے تو عام شہریوں کے لیے معیاری طبی سہولیات کا حصول آسان ہو جائے گا۔ اس تجویز کے تحت ہسپتالوں کو اپنے کمروں کے کرایوں کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ تھری اسٹار ہوٹل کی کیٹیگری کے مطابق ایڈجسٹ کرنا ہو گا، جس سے شفافیت کو فروغ ملے گا۔
دوسری جانب نجی ہسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جدید آلات، طبی عملے کی تنخواہیں اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ تاہم، حکومت کا یہ اقدام نجی شعبے پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے کی ایک کوشش ہے تاکہ صحت کے شعبے میں تجارتی مفادات کو انسانی ہمدردی اور عوامی فلاح پر فوقیت نہ دی جا سکے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اگر یہ تجاویز عملی طور پر لاگو ہو جاتی ہیں تو نجی ہسپتالوں میں داخل ہونے والے عام مریضوں کے لیے بلوں میں نمایاں کمی آئے گی اور صحت کی سہولیات زیادہ متوازن نرخوں پر دستیاب ہوں گی۔