Technology
اے آئی ڈیپ فیک سکیمز: آسٹریلیا میں مشہور شخصیات کے جعلی ویڈیوز کا راج
آسٹریلیا میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے مشہور شخصیات اور سیاستدانوں کی ڈیپ فیک ویڈیوز کے ذریعے شہریوں کو سرمایہ کاری کے جھوٹے منصوبوں میں پھنسایا جا رہا ہے۔ کارپوریٹ واچ ڈاگ نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ فراڈ اب پہلے سے کہیں زیادہ حقیقت پسندانہ اور خطرناک ہو چکے ہیں۔
آسٹریلیا میں حالیہ دنوں میں ایک تشویشناک رجحان دیکھنے میں آیا ہے جہاں مجرم عناصر مصنوعی ذہانت (AI) کی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ملک کی نامور شخصیات، سیاستدانوں اور معروف کاروباری ماہرین کی ڈیپ فیک (Deepfake) ویڈیوز تیار کر رہے ہیں۔ ان جعلی ویڈیوز کا بنیادی مقصد سادہ لوح عوام کو سرمایہ کاری کے جھوٹے اور پرکشش منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے پر اکسانا ہے۔ ٹیکنالوجی کی اس جدید شکل نے فراڈ کو اس قدر حقیقت پسندانہ بنا دیا ہے کہ عام آدمی کے لیے اصلی اور نقلی میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
آسٹریلیا کے کارپوریٹ واچ ڈاگ اور سائبر سکیورٹی اداروں نے اس حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام کو خبردار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی ویڈیوز چلاتے ہیں جن میں بظاہر کوئی قابل اعتماد شخصیت کسی ایسی کمپنی یا سکیم کی توثیق کر رہی ہوتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے آواز اور چہرے کے تاثرات کو اس طرح سے تبدیل کیا جاتا ہے کہ دیکھنے والا اسے مکمل طور پر اصلی سمجھ بیٹھتا ہے، جس کے بعد وہ اپنی جمع پونجی ان جعلی سکیموں میں گنوا دیتے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ شہریوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر ایسی سرمایہ کاری کی پیشکشوں پر کبھی بھروسہ نہ کریں جو انتہائی منافع بخش نظر آتی ہوں، چاہے وہ کسی معروف شخصیت کی جانب سے ہی کیوں نہ پیش کی جا رہی ہوں۔ کسی بھی غیر معمولی پیشکش پر فوری ردعمل دینے کے بجائے پہلے اس کی سرکاری ویب سائٹس یا مستند ذرائع سے تصدیق کر لینا ہی واحد حل ہے۔ حکومت اور ٹیکنالوجی کمپنیاں اب مل کر ان ڈیپ فیک مواد کو ہٹانے اور عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
مستقبل میں اس خطرے سے نمٹنے کے لیے قانون سازی اور ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ سائبر سکیورٹی ماہرین نے تاکید کی ہے کہ انٹرنیٹ پر کسی بھی مالی لین دین سے پہلے تصدیق کا عمل (Verification) لازمی بنایا جائے تاکہ ان جدید ڈیپ فیک سکینڈلز سے بچا جا سکے۔