LIVE
Loading Breaking News...

اوپل اور لیپ موٹر کی شراکت داری اور مستقبل پر اثرات

News Image
جرمن کار ساز کمپنی اوپل کی جانب سے چینی کمپنی لیپ موٹر کے ساتھ اشتراک نے مقامی انجینئرز اور ملازمین میں مستقبل کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ شراکت داری الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔
جرمنی کی مشہور کار ساز کمپنی اوپل ان دنوں ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے، جس کے پیش نظر کمپنی نے اپنی حکمت عملی میں بڑی تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں۔ اوپل نے اب اپنی توجہ الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی تیاری کے لیے چینی کمپنی 'لیپ موٹر' کے ساتھ شراکت داری بڑھانے پر مرکوز کر دی ہے۔ اس تعاون کا بنیادی مقصد ایک نئی ایس یو وی (SUV) تیار کرنا ہے، جس میں لیپ موٹر کی الیکٹرک ٹیکنالوجی اور کم لاگت پیداواری مہارت سے استفادہ کیا جائے گا۔ یہ اقدام یورپی آٹوموبائل مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے مسابقتی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ تاہم، اس شراکت داری نے اوپل کے آبائی شہر اور وہاں کام کرنے والے مقامی انجینئرز کے لیے تشویش کے بادل کھڑے کر دیے ہیں۔ ملازمین اور مقامی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر کمپنی اپنی تحقیق و ترقی (R&D) اور پیداوار کا بڑا حصہ بیرونی شراکت داروں کو منتقل کرتی ہے، تو مقامی سطح پر ہنر مند افراد کی ضرورت کم ہو سکتی ہے، جس سے مستقبل میں ملازمتوں کے مواقع متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ اوپل کے مقامی ملازمین کا کہنا ہے کہ کمپنی کے روایتی انجینئرنگ کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مقامی ورک فورس کو بھی اس نئی ٹیکنالوجی کے عمل میں مکمل طور پر شامل رکھا جائے۔ فی الحال، اوپل کی انتظامیہ اس بات پر زور دے رہی ہے کہ چینی کمپنی کے ساتھ یہ اشتراک کمپنی کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے اور پیداواری اخراجات کو عالمی معیار پر لانے کے لیے ناگزیر ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یورپی کار سازوں کا چینی کمپنیوں پر انحصار بڑھنا صنعتی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ صورتحال صرف اوپل تک محدود نہیں بلکہ پوری یورپی آٹوموٹیو انڈسٹری کے لیے ایک امتحان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا اوپل انتظامیہ مقامی ملازمین کے خدشات کو دور کرنے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے درمیان توازن قائم رکھنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔