LIVE
Loading Breaking News...

جان سونی کی چین نواز پالیسیوں پر تنقید اور قومی سلامتی کے خدشات

News Image
ایس این پی کے رہنما جان سونی کی جانب سے چین کے ساتھ تجارتی اور توانائی کے شعبوں میں قریبی تعلقات بڑھانے کے مطالبے پر سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مغربی ممالک کی سیکیورٹی پالیسیوں اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر میں ایک خطرناک پالیسی شفٹ ہے۔
اسکاٹش نیشنل پارٹی (ایس این پی) کے رہنما جان سونی ایک بار پھر تنقید کی زد میں ہیں، کیونکہ انہوں نے برطانوی وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ونڈ فارمز کی تعمیر پر عائد پابندیوں کو ختم کیا جائے۔ سیاسی مبصرین اس مطالبے کو 'سیل آؤٹ سوینی' کے بیانیے سے جوڑ رہے ہیں، جس کا مقصد چین کے ساتھ معاشی مفادات کے حصول کے لیے سیکیورٹی خدشات کو نظر انداز کرنا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ایسے وقت میں جب عالمی طاقتیں چین کے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل اور صنعتی اثر و رسوخ سے ہوشیار ہیں، جان سونی کا یہ موقف انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ ماہرینِ قومی سلامتی کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ اہم انفراسٹرکچر منصوبوں میں شراکت داری ملک کی حساس معلومات اور ٹیکنالوجی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ایس این پی کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کو معاشی ترقی کا نام دیا جا رہا ہے، لیکن اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ جان سونی نے اپنی سیاسی بقا اور وقتی فوائد کے لیے قومی مفادات کا سودا کرنا شروع کر دیا ہے۔ ماضی میں سونی کو ایک ایماندار سیاستدان کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ برطانوی حکومت پہلے ہی چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات میں احتیاط برتنے کی پالیسی پر گامزن ہے، تاکہ جاسوسی اور ڈیٹا کی چوری جیسے خطرات سے بچا جا سکے۔ ایسی صورتحال میں ایس این پی کا یہ مطالبہ برطانوی مرکزی حکومت اور علاقائی حکومتوں کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کر سکتا ہے۔ اگرچہ سونی کا اصرار ہے کہ یہ اقدام اسکاٹ لینڈ میں سبز توانائی اور معاشی بہتری کے لیے ناگزیر ہے، لیکن عوام اور سیاسی حلقے اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ آخر میں، یہ معاملہ صرف معاشی پالیسی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک بڑی جیو پولیٹیکل بحث کا حصہ بن چکا ہے۔ کیا جان سونی واقعی چین کی طرف جھکاؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے طویل مدتی خطرات کا ادراک رکھتے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو آنے والے دنوں میں ایس این پی کی سیاست میں ہلچل پیدا کر سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر سونی نے اپنے موقف پر نظرثانی نہ کی تو انہیں نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ اپنی جماعت کے اندر بھی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔