LIVE
Loading Breaking News...

یمن کی بگڑتی صورتحال: کیا یمن دوبارہ مکمل جنگ کی لپیٹ میں ہے؟

News Image
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے متنبہ کیا ہے کہ یمن میں جاری کشیدگی اور حالیہ حملوں کے بعد ملک ایک بار پھر مکمل جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سن 2022 کے جنگ بندی معاہدے کے بعد یمن کو موجودہ صورتحال میں سب سے بڑے خطرات کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے حال ہی میں یمن کی نازک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ ملک ایک بار پھر مکمل پیمانے پر تنازعے کی جانب گامزن ہے۔ سن 2022 میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب یمن میں بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کا خطرہ اتنا زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق حالیہ مہینوں میں جاری کشیدگی، عسکری نقل و حرکت اور سرحدی حملوں کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس نے امن کی بحالی کی تمام تر کوششوں کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ حوثی باغیوں کی جانب سے حملوں کی مہلکیت میں اضافہ اور سرحد پار کارروائیوں کے وسیع ہونے سے خطے کا امن شدید خطرات کی زد میں آ گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق عام شہری ایک بار پھر شدید خوف و ہراس کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے حالیہ اجلاسوں میں بھی ان بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو صورتحال کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر یمن میں دوبارہ جنگ کا آغاز ہوا تو اس کے اثرات پہلے سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوں گے۔ یمن پہلے ہی دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں سے گزر رہا ہے، جہاں خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت ہے۔ مکمل جنگ کی واپسی کا مطلب ہے کہ امدادی کاموں میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوں گی اور لاکھوں مزید افراد کو بے گھر ہونے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی برادری اب فریقین سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ کشیدگی کم کریں اور دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں تاکہ خطے کو ایک اور تباہی سے بچایا جا سکے۔ اس صورتحال نے خطے کے دیگر ممالک اور عالمی طاقتوں کو بھی متحرک کر دیا ہے، کیونکہ یمن میں کسی بھی قسم کا بڑا تنازعہ نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی تجارت اور سمندری راستوں کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ فریقین کو جنگ بندی کی پاسداری پر آمادہ کیا جائے، تاہم زمین پر موجود زمینی حقائق انتہائی تشویشناک ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ امن کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔