World
سعودی عرب اور امریکہ کا عراق میں ایران نواز ملیشیا پر مشترکہ حملہ
امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ افواج نے عراق میں ایران نواز ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ کارروائی حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی ہے تاکہ خطے میں کشیدگی اور ایرانی پراکسیز کے اثرورسوخ کو روکا جا سکے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی عرب اور امریکہ کی افواج نے عراق میں ایران نواز ملیشیا کے خلاف ایک بڑی اور فیصلہ کن مشترکہ کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ حملے حالیہ ایام میں امریکی اور اتحادی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں، جن کا مقصد خطے میں سرگرم شدت پسند گروہوں کے نیٹ ورک کو کمزور کرنا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق، اتحادی افواج نے انتہائی مہارت کے ساتھ عراق کے اندر انمٹ مقامات کو نشانہ بنایا جہاں ایران کے حامی عسکریت پسند پناہ لیے ہوئے تھے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران ایک ممکنہ ایرانی میزائل حملے کو بھی کامیابی سے ناکام بنایا گیا، جو مبینہ طور پر اتحادی فورسز کے لیے ایک بڑا سرپرائز ثابت ہو سکتا تھا۔ امریکہ اور سعودی عرب کی یہ مشترکہ عسکری پیش قدمی خطے کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال میں ایک نیا موڑ تصور کی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی مشترکہ کارروائیاں ایران کی طرف سے حمایت یافتہ پراکسیز کی سرگرمیوں کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم اتحادی ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مفادات اور فوجیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے۔ عراق کی صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور سفارتی حلقے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ کارروائی محدود رہے گی یا اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہو گا۔