World
زمبابوے کشتی حادثہ: ہلاکتوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ
زمبابوے میں ایک المناک حادثے کے دوران کشتی الٹنے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 92 ہو گئی ہے۔ مقامی حکام تاحال لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
زمبابوے میں ایک خوفناک کشتی حادثے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جس کے بعد اب تک 92 افراد کی ہلاکت کی سرکاری طور پر تصدیق کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک مسافر بردار کشتی اپنی گنجائش سے زیادہ وزن اٹھائے ہوئے پانی کے تیز بہاؤ اور توازن برقرار نہ رکھ سکنے کی وجہ سے الٹ گئی۔ اس سانحے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے اور مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے فوراً بعد متعدد افراد کو پانی سے نکال لیا گیا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لاشوں کے ملنے کا سلسلہ جاری ہے جس سے مرنے والوں کی تعداد 92 تک جا پہنچی ہے۔ علاقائی حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ حادثہ کشتی کی خستہ حالی کے باعث پیش آیا یا اس میں اوور لوڈنگ کا عنصر شامل تھا۔ اس وقت دریائی علاقے میں امدادی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو تاحال لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش میں مصروف ہے۔ کشتی میں سوار مسافروں کی صحیح تعداد کے بارے میں تاحال متضاد اطلاعات ہیں جس کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو کام کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ زمبابوے حکومت نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حادثات اکثر کشتیوں کی دیکھ بھال نہ ہونے اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ مقامی لوگ کشتی کے مالکان کی غفلت کو اس سانحے کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ریسکیو آپریشن میں غوطہ خوروں کی مدد لی جا رہی ہے تاکہ پانی کے اندر پھنسے ممکنہ متاثرین تک پہنچا جا سکے۔ حکومت نے عارضی طور پر اس روٹ پر کشتیوں کی آمدورفت کو بھی معطل کر دیا ہے تاکہ مزید حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔