LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ، مکہ معاہدہ اور مشرق وسطیٰ میں امریکی سیکیورٹی کا مستقبل

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتحادیوں پر اپنے دفاعی اخراجات بڑھانے کے مطالبے کے بعد خطے کے تین امریکی شراکت داروں نے آپس میں ایک نیا سیکیورٹی معاہدہ تشکیل دیا ہے۔ اس پیشرفت نے مشرق وسطیٰ میں امریکی سیکیورٹی ڈھانچے کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں خطے کے تین اہم امریکی شراکت داروں کے مابین طے پانے والے ایک نئے سیکیورٹی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، جسے ’مکہ معاہدہ‘ کہا جا رہا ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ مسلسل اپنے اتحادی ممالک پر زور دے رہی ہے کہ وہ اپنے دفاعی امور میں خود انحصاری کی طرف بڑھیں اور سیکیورٹی اخراجات کا زیادہ بوجھ خود اٹھائیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں امریکی سیکیورٹی چھتری کی روایتی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی جانب اشارہ ہے۔ نئے معاہدے کی اہمیت اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ خطے کے ممالک اب اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے صرف واشنگٹن پر انحصار کرنے کے بجائے باہمی تعاون کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم اور صدارتی دور میں بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ امریکہ اب دنیا بھر میں پولیس مین کا کردار ادا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، لہذا اتحادیوں کو اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اس نئے سیکیورٹی پیکٹ کو امریکی مطالبے کی ایک عملی تعبیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں خطے کے ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر درپیش چیلنجز کا مقابلہ کریں گے۔ تاہم، سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ نیا اتحاد واقعی امریکی سیکیورٹی چھتری کی مکمل جگہ لے سکتا ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ معاہدہ باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے ایک مثبت قدم ہے، لیکن تکنیکی اور عسکری اعتبار سے اب بھی خطے کے ممالک کا انحصار امریکی انٹیلی جنس اور جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ ہے۔ امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ سیکیورٹی گارنٹی اور اس کا فوجی موجودگی کا ڈھانچہ ابھی بھی خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ سیکیورٹی پیکٹ صرف ایک علاقائی تعاون تک محدود رہتا ہے یا پھر یہ ایک وسیع تر عسکری اتحاد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسیوں نے خطے کے حکمرانوں کو اس سوچ پر مجبور کر دیا ہے کہ واشنگٹن کی ترجیحات تبدیل ہو سکتی ہیں، لہذا اپنے پیروں پر کھڑے ہونا ناگزیر ہے۔ مکہ معاہدہ اسی ضرورت کے پیش نظر اٹھایا گیا ایک بڑا قدم ہے جس پر دنیا بھر کی سفارتی حلقوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔