LIVE
Loading Breaking News...

سونے کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈی میں دوبارہ واپسی

News Image
عالمی منڈی میں ایران اور اسرائیل کشیدگی کے باعث ہونے والی ابتدائی گراوٹ کے بعد سونے کی قیمتیں دوبارہ اوپر کی جانب گامزن ہیں۔ سرمایہ کار ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے بچنے کے لیے سونے کو ایک محفوظ اثاثہ مان رہے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ہونے والی حالیہ اتار چڑھاؤ کے بعد اب یہ دھات دوبارہ اپنے محفوظ سرمایہ کاری والے کردار کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھنے والی کشیدگی کے ابتدائی دنوں میں سونے کی قیمتوں میں ایک غیر معمولی فروخت کا رجحان دیکھا گیا تھا جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں اضطراب پایا جاتا تھا۔ تاہم گزشتہ چند روز کے دوران سونے نے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنا شروع کر دیا ہے اور سرمایہ کار دوبارہ اسے ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ جب بھی عالمی سطح پر سیاسی کشیدگی یا جنگی صورتحال پیدا ہوتی ہے، تو روایتی طور پر سونے کو بحران سے نمٹنے کے لیے بہترین اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر جنگی خوف نے مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا تھا، مگر اب سرمایہ کار اس صورتحال کو ایک طویل مدتی سرمایہ کاری کے مواقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سونے کی قیمتوں میں حالیہ استحکام اس بات کا غماز ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد ایک بار پھر اس قیمتی دھات پر بحال ہو رہا ہے۔ امریکہ اور دیگر بڑی معیشتوں کے مرکزی بینکوں کی جانب سے سود کی شرح میں ممکنہ تبدیلیوں کے اشاروں نے بھی سونے کی طلب کو متاثر کیا ہے۔ تاہم، جغرافیائی سیاسی خطرات کی موجودگی میں سونے کی قیمتیں مسلسل اوپر کی جانب بڑھنے کا رجحان رکھتی ہیں۔ مارکیٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل کے مابین کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو سونے کی قیمتیں نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں، کیونکہ سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ کے رسک سے بچنے کے لیے سونا خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مستقبل قریب میں سونے کی قیمتوں کا انحصار براہ راست عالمی سیاست اور خطے میں ہونے والے واقعات پر ہوگا۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کو قریب سے دیکھیں، کیونکہ آنے والے ہفتوں میں قیمتوں میں مزید تیزی کے امکانات موجود ہیں۔ سونے کی عالمی طلب میں اضافہ نہ صرف معاشی بحرانوں سے بچاؤ کا ذریعہ ہے بلکہ یہ ایک مستحکم مالیاتی اثاثہ بھی تصور کیا جاتا ہے۔