LIVE
Loading Breaking News...

لیتھیم ایئر بیٹری کی ٹیکنالوجی اور اس کے مستقبل کے اثرات

News Image
جاپانی محققین ایک ایسی جدید لیتھیم ایئر بیٹری تیار کر رہے ہیں جو ماحول سے آکسیجن کا استعمال کرکے بجلی ذخیرہ کرتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ گنجائش اور کم وزن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جاپان کے ممتاز محققین نے بیٹری ٹیکنالوجی میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے 'لیتھیم ایئر' (Lithium-air) بیٹری پر کام شروع کیا ہے، جو مستقبل میں توانائی کے شعبے میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی ماحول میں موجود آکسیجن کا استعمال کرتے ہوئے بجلی پیدا کرنے اور اسے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے کامیاب تجربات توانائی کی بچت اور پورٹیبل ڈیوائسز کے استعمال میں ایک نیا انقلاب برپا کریں گے۔ اس نئی تحقیق کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی استعداد کار ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، یہ لیتھیم ایئر بیٹریاں روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا وزن روایتی بیٹریوں سے نصف سے بھی کم ہونے کی توقع ہے، جس کا براہِ راست فائدہ الیکٹرک گاڑیوں اور اسمارٹ فونز جیسے آلات کو ہوگا۔ وزن میں کمی اور گنجائش میں اضافہ، ان بیٹریوں کو مستقبل کی جدید ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی موزوں بناتا ہے۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی تحقیق کے مراحل سے گزر رہی ہے، تاہم اس کے مضمرات بہت وسیع ہیں۔ بیٹریوں کا ہلکا ہونا اور ان کی دیرپا کارکردگی طویل فاصلہ طے کرنے والی الیکٹرک گاڑیوں کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ محققین اب ان تکنیکی چیلنجوں پر کام کر رہے ہیں جن کا تعلق ان بیٹریوں کی پائیداری اور چارجنگ کے عمل کو محفوظ بنانے سے ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لیتھیم ایئر بیٹریوں کی بڑے پیمانے پر تیاری ممکن ہو گئی، تو یہ بیٹری انڈسٹری میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی جگہ لے لیں گی۔ یہ نہ صرف زیادہ ماحول دوست ثابت ہوں گی بلکہ صارفین کو طویل چارجنگ لائف بھی فراہم کریں گی۔ اس تحقیق کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں توانائی کے ذخیرہ اندوزی کے مسائل کا ایک ممکنہ اور مستحکم حل قرار دیا جا رہا ہے، جس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔