Business
بی وائی ڈی جاپان کی 'کے کار' مارکیٹ میں قدم جمانے کے لیے تیار
الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی BYD نے جاپانی مارکیٹ کے لیے اپنی خصوصی الیکٹرک کار 'ریکو' متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم کمپنی کی جاپان میں اپنی فروخت کو بڑھانے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ ہے۔
چین کی معروف الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی بی وائی ڈی (BYD) نے جاپان کی منفرد اور مقبول 'کے کار' (Kei Car) مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور جارحانہ حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے اپنی نئی الیکٹرک کار 'ریکو' (Racco) متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے خاص طور پر جاپانی صارفین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف دو سال کے مختصر عرصے میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ بی وائی ڈی جاپان کی مسابقتی آٹو مارکیٹ میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا چاہتی ہے۔
جاپان کی 'کے کار' مارکیٹ اپنی نوعیت میں دنیا بھر سے منفرد ہے، جہاں چھوٹی جسامت کی حامل گاڑیوں کو ان کے کم ٹیکس، پارکنگ میں آسانی اور شہروں کے اندر نقل و حرکت کے لیے فوقیت دی جاتی ہے۔ ماضی میں بی وائی ڈی کو جاپانی مارکیٹ میں فروخت کے حوالے سے کافی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، تاہم اب 'ریکو' کے ذریعے کمپنی توقع کر رہی ہے کہ وہ جاپانی عوام کی پسند کو اپنی جانب متوجہ کر سکے گی۔ یہ گاڑی نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ اس کی تکنیکی خصوصیات اسے روایتی جاپانی گاڑیوں کے مقابل ایک مضبوط امیدوار بناتی ہیں۔
صنعتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی وائی ڈی کی جانب سے جاپانی مارکیٹ کے لیے یہ خصوصی کوشش کمپنی کی عالمی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران جاپان میں سست فروخت کے بعد، کمپنی اب براہِ راست مقامی صارفین کے ذوق کے مطابق گاڑیاں تیار کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اگر 'ریکو' جاپانی صارفین کی توقعات پر پورا اترتی ہے تو یہ بی وائی ڈی کے لیے جاپان میں کامیابی کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔
یہ پیشرفت اس بات کی بھی عکاس ہے کہ چینی کار ساز ادارے اب بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے محض روایتی ماڈلز پر انحصار کرنے کے بجائے علاقائی ضرورت کے مطابق مصنوعات تیار کر رہے ہیں۔ بی وائی ڈی کا یہ منصوبہ جاپان کی آٹو موبائل انڈسٹری کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، جہاں مقامی کمپنیاں برسوں سے اپنی اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ جاپانی صارفین اس چینی الیکٹرک گاڑی کو کس حد تک قبول کرتے ہیں۔