Politics
اسحاق ڈار کا امریکہ کے ساتھ تجارتی حجم بیس ارب ڈالر کرنے کا عزم
وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی وفد سے ملاقات کے دوران دو طرفہ تجارت کو اگلے پانچ سالوں میں بیس ارب ڈالر تک پہنچانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر پاک امریکہ تعلقات کو مزید فروغ دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تجارت کو آئندہ پانچ سالوں میں دگنا کر کے بیس ارب ڈالر تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی امریکی کانگریشنل وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس اہم ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی تعلقات، معاشی تعاون اور دو طرفہ تجارتی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی منڈی ہے اور دونوں ممالک کے پاس اقتصادی ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ امریکی قانون سازوں نے بھی پاکستان کے ساتھ معاشی اور تجارتی شعبوں میں تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور اس ہدف کے حصول کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ اس کے علاوہ، اس دورے کے دوران امریکی وفد کی دیگر اعلیٰ عسکری اور سیاسی شخصیات سے بھی ملاقاتیں ہوئیں جن میں علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر گفتگو کی گئی۔ جیونیوز اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر سے بھی امریکی قانون سازوں نے ملاقات کی جس میں علاقائی امن اور استحکام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیم، ثقافت اور عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دینے کے عزم کو بھی دہرایا گیا۔ نیشن کیپ پاکستان کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نے تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے نئے معاہدوں اور اسکالرشپ پروگراموں پر بھی روشنی ڈالی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس اعلیٰ سطحی رابطے سے دونوں ممالک کے سفارتی اور تجارتی تعلقات میں ایک نیا باب کھلے گا اور معاشی میدان میں بہتری کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔