LIVE
Loading Breaking News...

قبائلی علاقے میں سڑک کی تعمیر: ایک اور قیمتی جان جانے کے بعد مقامی افراد کا اقدام

News Image
ایک حاملہ خاتون کی بروقت ہسپتال نہ پہنچنے کے باعث افسوسناک ہلاکت کے بعد مقامی قبائلیوں نے حکومت کی جانب سے نظر انداز کیے جانے پر خود سڑک بنانے کا فیصلہ کیا۔ اہلیانِ علاقہ کا کہنا ہے کہ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے ایمبولینس کا پہنچنا ناممکن تھا جس کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا گیا۔
ملک کے پسماندہ قبائلی علاقوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ایک بار پھر ایک قیمتی انسانی جان نگل گیا، جس کے نتیجے میں مقامی عوام نے حکومت کے منتظر رہنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت سڑک تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حال ہی میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں ایک حاملہ خاتون کو شدید علالت کے دوران طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم علاقے میں پختہ سڑک نہ ہونے اور راستہ دشوار گزار ہونے کی وجہ سے ایمبولینس بروقت نہ پہنچ سکی، جس کے نتیجے میں خاتون ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئیں۔ اس سانحے نے مقامی لوگوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی اور انہوں نے حکومتی بے حسی کے خلاف عملی قدم اٹھایا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے ان علاقوں میں سڑکوں کا جال بچھانے کے وعدے کیے جاتے رہے ہیں، لیکن عملی طور پر یہاں کچھ بھی نہیں ہوا۔ بارش کے موسم میں تو صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے اور پورا علاقہ شہر سے کٹ جاتا ہے۔ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف مریضوں کو ہسپتال پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے بلکہ بچوں کی تعلیم اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مقامی قبائلیوں نے چندہ جمع کر کے اور اپنی افرادی قوت کو بروئے کار لا کر پہاڑی راستوں کو ہموار کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں کسی اور کو ایسے المناک حالات سے نہ گزرنا پڑے۔ اس واقعے کے بعد سماجی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متعلقہ انتظامیہ فوری طور پر ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو یقینی بنائے۔ عوامی نمائندوں اور حکومتی اداروں کی یہ اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو صحت، تعلیم اور نقل و حمل جیسی بنیادی سہولیات فراہم کریں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ان علاقوں میں مسائل کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے مقامی آبادی میں محرومی کا احساس مزید گہرا ہو جائے گا۔ عوام کی جانب سے خود سڑک تعمیر کرنے کا اقدام جہاں ایک طرف ہمت اور عزم کی مثال ہے، وہیں دوسری طرف متعلقہ سرکاری اداروں کی کارکردگی پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔