Politics
آر ٹی آئی ایکٹ: انکوائری آفیسر اب پبلک اتھارٹی قرار
پنجاب انفارمیشن کمیشن نے ایک اہم قانونی وضاحت جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی بھی سرکاری معاملے میں تفتیش کرنے والا آفیسر آر ٹی آئی ایکٹ کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد انکوائری آفیسرز کو اب معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت جوابدہ ہونا پڑے گا۔
پنجاب انفارمیشن کمیشن نے ایک تاریخی اور اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی بھی سرکاری یا قانونی انکوائری کے لیے مقرر کردہ 'انکوائری آفیسر' کو انفارمیشن کے حق کے قانون (آر ٹی آئی ایکٹ) کے تحت 'پبلک اتھارٹی' تصور کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ سرکاری محکموں میں جاری شفافیت اور احتساب کے عمل کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ کمیشن کے مطابق، انکوائری آفیسرز اب عوام کو اپنے فرائض اور تفتیشی مراحل سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔
اس سے قبل کئی مواقع پر انکوائری آفیسرز خود کو آر ٹی آئی ایکٹ کی شقوں سے مستثنیٰ قرار دینے کی کوشش کرتے رہے تھے، جس کی وجہ سے شہریوں کو تفتیشی رپورٹس یا اس سے متعلقہ ریکارڈ تک رسائی حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ تاہم، اب کمیشن کی جانب سے جاری کردہ وضاحت کے بعد، کسی بھی شہری کی جانب سے طلب کی گئی متعلقہ دستاویزات یا معلومات کو فراہم کرنا انکوائری آفیسر کی قانونی ذمہ داری ہوگی، بشرطیکہ وہ معلومات قانونی طور پر خفیہ زمرے میں نہ آتی ہوں۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے سرکاری نظام میں کرپشن کے خاتمے اور کام کی رفتار میں تیزی آئے گی۔ جب انکوائری آفیسرز پر یہ واضح ہوگا کہ ان کی کارروائی پر عوامی نظر ہے اور انہیں جوابدہ ہونا ہے، تو ان کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں غیر جانبداری اور شفافیت کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ اس فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ان تمام آفیسرز پر ہوگا جو صوبائی یا ضلعی سطح پر مختلف سرکاری امور کی تفتیش کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
مزید برآں، پنجاب انفارمیشن کمیشن نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے انکوائری آفیسرز کو آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعات سے آگاہ کریں تاکہ مستقبل میں کسی بھی معلومات کے حصول میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اس پیش رفت کو عام شہریوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے کیونکہ یہ فیصلہ شفاف حکمرانی کے خواب کو عملی تعبیر دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ سرکاری ادارے اس نئے قانونی اصول پر کس حد تک عملدرآمد کو یقینی بناتے ہیں۔