LIVE
Loading Breaking News...

موہن بھاگوت کا جمہوریت اور سماجی اقدار پر اہم بیان

News Image
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ جمہوریت میں مختلف خیالات کا احترام لازمی ہے، لیکن قومی مفاد کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر سماجی ہم آہنگی کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے حال ہی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمہوریت، آئینی اقدار اور سماجی ہم آہنگی پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جمہوریت کا حسن ہی یہی ہے کہ اس میں اختلاف رائے کی گنجائش موجود ہوتی ہے، تاہم اس اختلاف کا اظہار کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ ملک کا آئین اور معاشرتی ڈھانچہ کسی بھی صورت میں کمزور نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اظہار رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ضرور ہے لیکن یہ حق ذمہ داری کے احساس کے ساتھ جڑا ہونا چاہیے۔ موہن بھاگوت نے مزید کہا کہ بحث و مباحثہ جمہوریت کا اہم حصہ ہے لیکن جب یہ بحث نفرت انگیز رویوں میں تبدیل ہو جائے یا اس سے سماجی انتشار پیدا ہونے لگے تو یہ عمل ملک کی ترقی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سماجی تانے بانے کو مستحکم رکھنے کے لیے تمام طبقات کو ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کرنا چاہیے تاکہ قومی یکجہتی برقرار رہ سکے۔ سنگھ سربراہ کے مطابق، کسی بھی جمہوری معاشرے کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ وہاں کے شہری کتنی ذمہ داری سے اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی باور کرایا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ملک کی سلامتی اور سماجی اقدار کے تحفظ کے معاملے پر تمام لوگوں کو متحد رہنا چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مختلف سماجی و سیاسی مسائل پر بحث جاری ہے اور عوامی حلقوں میں مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آخر میں، انہوں نے نوجوان نسل کو مشورہ دیا کہ وہ جمہوریت کی روح کو سمجھیں اور ملک کی تعمیر میں تعمیری کردار ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین کی بالادستی کو یقینی بنانا ہی ایک ترقی یافتہ اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہے، لہذا ہمیں ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو معاشرے میں تقسیم کا باعث بنتے ہوں۔ موہن بھاگوت کا یہ بیان سیاسی اور سماجی حلقوں میں کافی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، جس میں اعتدال پسندی اور قومی مفاد کو ترجیح دینے کا درس دیا گیا ہے۔