Pakistan
پنجاب میں بے روزگاری کے اعداد و شمار جاری، پی ایل ایف ایس رپورٹ
پیریڈک لیبر فورس سروے (PLFS) کے تازہ ترین اعداد و شمار نے پنجاب میں بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پڑوسی ریاست ہماچل پردیش خطے میں سب سے کم بے روزگاری کے ساتھ سرفہرست ہے۔
پیریڈک لیبر فورس سروے (PLFS) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار نے پنجاب کے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی سنگین صورتحال کو اجاگر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، خطے میں روزگار کے مواقع کی کمی اور نوجوانوں کی بڑی تعداد کا کام کی تلاش میں درکار معیار پر پورا نہ اترنا پنجاب کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ حکومتی اور نجی شعبوں میں نوکریوں کے محدود مواقع کے باعث نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مایوسی کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعتی ترقی میں سست روی اور جدید مہارتوں کی کمی اس اضافے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
اس کے برعکس، ہمسایہ ریاست ہماچل پردیش نے اس خطے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور بے روزگاری کی شرح کو کم ترین سطح پر رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ ہماچل پردیش کی جانب سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں اور مقامی صنعتوں کی ترویج نے اسے دیگر ریاستوں کے لیے ایک مثال بنا دیا ہے۔ پی ایل ایف ایس کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ وہاں افرادی قوت کی شمولیت کی شرح کافی بہتر ہے، جس کی بدولت ریاست اپنے نوجوانوں کو زیادہ موثر انداز میں روزگار فراہم کر رہی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ پنجاب کو اب اپنی لیبر مارکیٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ تعلیم اور فنی مہارتوں کے درمیان خلیج کو ختم کیے بغیر بے روزگاری پر قابو پانا ناممکن ہے۔ پنجاب میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑی تعداد مارکیٹ کی ضروریات سے مطابقت نہ رکھنے والی ڈگریوں کے ساتھ بے روزگار گھوم رہی ہے، جس کے لیے تکنیکی تربیت کے نئے پروگراموں کا اجرا ناگزیر ہے۔
حکومت پنجاب کو اب ہماچل پردیش کے ماڈل کا جائزہ لینے اور اپنی پالیسیوں میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بے روزگاری کی شرح میں کمی لائی جا سکے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال نہ صرف معاشی بحران کا باعث بنے گی بلکہ سماجی ناہمواری میں بھی اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ پی ایل ایف ایس کی یہ رپورٹ انتظامیہ کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور نوجوانوں کو روزگار کے لیے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔