Pakistan
پاکستان میں نئے مون سون کا آغاز، پنجاب اور اسلام آباد میں بارشیں
ملک کے بالائی علاقوں اور پنجاب میں بارشوں سے نئے مون سون سلسلے کا آغاز ہو گیا ہے، جس سے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے مون سون سے متعلق ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں جبکہ حکومت موسمیاتی لچک پر بھی زور دے رہی ہے۔
اسلام آباد اور صوبہ پنجاب کے مختلف حصوں میں ہونے والی حالیہ بارشوں نے ملک میں ایک نئے مون سون سلسلے کے آغاز کی نوید سنا دی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس تازہ ترین موسمی سسٹم کے فعال ہونے سے ملک کے بالائی اور وسطی اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس سے گرمی کی لہر میں کمی آئی ہے۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس بارش کے نتیجے میں دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں ایک بار پھر اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، حکومتی سطح پر پانی کے بہتر انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ پانی کی موثر ریگولیشن نہ صرف موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ ملک کی غذائی سیکیورٹی کو یقینی بنانے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ بدلتے ہوئے موسمی حالات کے درمیان زرعی شعبے کو محفوظ بنانے کے لیے آبی ذخائر کے بہتر استعمال کی اشد ضرورت ہے۔ دریں اثنا، ملک بھر میں جاری مون سون کی بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات جاری ہیں۔ وزیر اعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ مون سون سے جڑے ہنگامی حالات اور ناگہانی آفات میں فوری اور مؤثر ریسپانس کو یقینی بنایا جائے تاکہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ سیلاب سے متاثرہ کئی علاقوں میں بحالی کا کام سست روی کا شکار ہے جہاں دیہات تاحال کٹے ہوئے ہیں اور مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت یا رضاکار کشتیوں کے عملے پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے امدادی سامان کی فراہمی اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھی جا رہی ہیں تاکہ اس قدرتی آفت کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔