Business
شانتی ایکٹ کے تحت جوہری توانائی کے شعبے میں بڑی تبدیلیاں
بھارت نے شانتی ایکٹ کے مسودہ قواعد جاری کر دیے ہیں جس کا مقصد نیوکلیئر پاور سیکٹر میں نجی سرمایہ کاری کے دروازے کھولنا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت ایک ہی لائسنس کے ذریعے پلانٹ کی تعمیر، آپریشن اور ڈی کمیشننگ ممکن ہو سکے گی۔
بھارت کی جانب سے جوہری توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے 'شانتی ایکٹ' کے مسودہ قواعد و ضوابط کو عوامی رائے کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ قانون بھارت کے نیوکلیئر پاور سیکٹر میں ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس کا بنیادی مقصد نجی شعبے کی شرکت کو یقینی بنانا اور توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہے۔ حکومتی دستاویزات کے مطابق، اب جوہری پلانٹس کے قیام کے لیے پیچیدہ اور طویل طریقہ کار کو ختم کر کے ایک 'سنگل لائسنس' نظام متعارف کروایا جا رہا ہے، جو پلانٹ کی تعمیر، آپریشنل مراحل اور آخر میں اس کی ڈی کمیشننگ (بندش) تک محیط ہوگا۔ اس اقدام سے سرمایہ کاروں کے لیے آسانی پیدا ہوگی اور نوکر شاہی کی رکاوٹیں کم ہوں گی۔
مسودے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے صرف ان ممالک پر انحصار کیا جائے گا جو خود انحصار (Self-reliant) ہیں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں شفافیت کو یقینی بناتے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد تکنیکی خودمختاری کو فروغ دینا اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ اس حساس شعبے میں نجی کمپنیوں کو کام کرنے کی اجازت تو دی جائے گی، لیکن ان کے لیے سخت حفاظتی معیارات پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ ان معیارات میں خاص طور پر تابکار فضلے (Nuclear Waste) کے انتظام اور ماحولیاتی تحفظ کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
مزید برآں، نجی کمپنیوں کے لیے مالیاتی تحفظ اور انشورنس کی شرائط کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مالی نقصانات اور حادثات کی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔ کمپنیوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے پاس جوہری فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور وسائل موجود ہیں۔ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ نجی شعبے کی شمولیت کے باوجود جوہری اثاثوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان قواعد کے لاگو ہونے سے بھارت میں جوہری توانائی کی پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور ملک کا توانائی مکس بہتر ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ قوانین بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معیارات سے ہم آہنگ ہیں تاکہ عالمی سطح پر بھی اس شعبے میں بھارت کی ساکھ بہتر ہو سکے۔ آنے والے دنوں میں مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ان قواعد کو حتمی شکل دی جائے گی۔ یہ اصلاحات نہ صرف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کریں گی بلکہ مقامی سطح پر تکنیکی مہارتوں کے فروغ کا بھی باعث بنیں گی۔ نیوکلیئر سیکٹر میں اس طرح کی کشادگی بھارت کے گرین انرجی اہداف کے حصول میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔