Technology
کوئلے کی کان کنی کا جدید طریقہ: وی این آئی ٹی محققین کی بڑی کامیابی
ناگپور کے وی این آئی ٹی انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے کوئلے کی کان کنی کے ایک جدید طریقہ کار کو پیٹنٹ کرایا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے کوئلے کے حصول کی شرح کو 65 فیصد سے بڑھا کر 95 فیصد تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
ناگپور میں واقع وشویشوریا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (VNIT) کے محققین نے کان کنی کے شعبے میں ایک شاندار کامیابی حاصل کی ہے جس سے کوئلے کی پیداوار کے روایتی طریقوں میں انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے ایک ایسی پیٹنٹ شدہ ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس میں 'کونٹینیوس مائنر' اور 'پمپ ایبل بیک فل' کے طریقہ کار کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس جدید تکنیک کا بنیادی مقصد کان کنی کے دوران ضائع ہونے والے کوئلے کی مقدار کو کم کرنا اور زیادہ سے زیادہ قدرتی وسائل کا حصول یقینی بنانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایجاد توانائی کے شعبے میں پائیداری کے حصول کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔ روایتی 'بورڈ اینڈ پلر' طریقہ کار میں کوئلے کے ذخائر سے صرف 60 سے 65 فیصد تک ہی کوئلہ نکالا جا سکتا تھا، جبکہ باقی ماندہ حصہ زمین کے اندر ہی ضائع ہو جاتا تھا۔ اب اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت کوئلے کی بازیابی کی شرح کو 95 فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کان کنی کے موجودہ منصوبوں سے کہیں زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے گی۔ یہ تکنیک نہ صرف اقتصادی اعتبار سے منافع بخش ہے بلکہ وسائل کے ضیاع کو روکنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اس ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والا پمپ ایبل بیک فل سسٹم زیر زمین خالی جگہوں کو پر کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے نہ صرف کوئلے کے بڑے ذخائر تک رسائی ممکن ہوتی ہے بلکہ کان کنی کے مقامات پر حفاظتی اقدامات میں بھی بہتری آتی ہے۔ تحقیق کرنے والی ٹیم کے مطابق، یہ طریقہ کار ماحول دوست بھی ہے کیونکہ یہ زمین کے نیچے خالی گڑھوں کے بننے کے خطرات کو کم کرتا ہے، جو عام طور پر کان کنی کے دوران حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ اس پیش رفت کو ماہرین نے ہندوستان کے انرجی سیکٹر کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے کمرشل استعمال سے کوئلے کی قلت کو پورا کرنے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ وی این آئی ٹی کی جانب سے اس پیٹنٹ کی منظوری کے بعد، اب متعلقہ حکام کی جانب سے اس کے صنعتی پیمانے پر نفاذ کے لیے بات چیت جاری ہے تاکہ اس کے فوائد قومی سطح پر منتقل کیے جا سکیں۔