World
انڈونیشیا زلزلہ: ہلاکتیں 68، امدادی کاموں میں رکاوٹیں
انڈونیشیا کے مشرقی علاقوں میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں اب تک 68 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ آفٹر شاکس اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انڈونیشیا کے مشرقی علاقوں میں حالیہ تباہ کن زلزلے نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، حکام کے مطابق اب تک ہلاکتوں کی تعداد 68 تک پہنچ چکی ہے جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ زلزلے کے شدید جھٹکوں نے مقامی آبادی کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور متعدد رہائشی عمارتیں زمین بوس ہو گئی ہیں۔ ریسکیو اداروں کی جانب سے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے دن رات کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم صورتحال انتہائی سنگین بنی ہوئی ہے۔
زلزلے کے بعد آنے والے تسلسل کے ساتھ آفٹر شاکس اور پہاڑی علاقوں میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ نے امدادی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم سڑکیں بلاک ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کا متاثرہ علاقوں تک پہنچنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ طبی سہولیات کی فراہمی میں تاخیر اور مواصلاتی رابطے منقطع ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے متاثرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کیے ہیں جہاں خوراک اور ادویات پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔
حکومتِ انڈونیشیا نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور عالمی برادری سے بھی مدد کی اپیل کی گئی ہے۔ زلزلہ متاثرین کا کہنا ہے کہ تباہی اتنی اچانک آئی کہ انہیں سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا۔ ماہرینِ ارضیات کے مطابق انڈونیشیا دنیا کے ایسے خطے میں واقع ہے جہاں زلزلے اور آتش فشاں پھٹنے کے واقعات معمول کا حصہ ہیں، تاہم اس بار کی شدت نے گزشتہ برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مزید آفٹر شاکس کے پیش نظر شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
فی الحال توجہ ملبے تلے پھنسے ہوئے افراد کی بازیابی اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں تک پہنچانے پر مرکوز ہے۔ فوجی دستے اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں مشترکہ طور پر آپریشن کر رہی ہیں تاکہ جلد از جلد متاثرہ علاقوں تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی انڈونیشیا کے زلزلہ متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور امدادی سامان کی ترسیل کے لیے اپنے وسائل کو متحرک کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن تب تک جاری رہے گا جب تک آخری لاپتہ شخص کا سراغ نہیں مل جاتا۔