LIVE
Loading Breaking News...

آسٹریلیا میں مصنوعی ذہانت کا تعلیمی نظام پر اثر

News Image
آسٹریلیا کے متبادل اسکول سسٹمز میں سے ایک کے سربراہ نے اساتذہ اور طلباء کے لیے مصنوعی ذہانت کا لرننگ ٹول بنانے سے انکار کر دیا ہے۔ جنریٹیو اے آئی کے تعلیمی استعمال پر ملک بھر کے ماہرین اور اسکولوں کے درمیان بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔
آسٹریلیا کے تعلیمی حلقوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جس کی وجہ سے ملک کا تعلیمی نظام بظاہر تقسیم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ حالیہ پیش رفت کے دوران، آسٹریلیا کے ایک بڑے متبادل اسکول سسٹم کے سربراہ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اساتذہ اور طلباء کے لیے کسی بھی قسم کا مصنوعی ذہانت پر مبنی لرننگ ٹول تیار نہیں کریں گے۔ اس فیصلے نے تعلیمی ماہرین کی آراء کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، جہاں کچھ لوگ اسے انسانی صلاحیتوں کے زوال کا سبب قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسرے اسے جدید دور کی ناگزیر ضرورت مانتے ہیں۔ جنریٹیو اے آئی ٹولز جیسے کہ چیٹ جی پی ٹی اور دیگر تعلیمی ایپلی کیشنز نے دنیا بھر کے اسکولوں کے لیے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ آسٹریلوی اسکولوں میں اس پر بحث جاری ہے کہ آیا طلباء کو ان ٹولز کے استعمال کی مکمل آزادی دی جائے یا امتحانات اور اسائنمنٹس میں اس کی سختی سے پابندی عائد کی جائے۔ ایک طرف جہاں چند تعلیمی ادارے اے آئی کو نصاب کا حصہ بنانے پر غور کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف روایتی اقدار کے حامی ادارے اس ٹیکنالوجی سے دوری اختیار کرنے میں ہی بہتری سمجھ رہے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اے آئی کے استعمال سے طلباء کی تخلیقی صلاحیتیں اور تنقیدی سوچ متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، حامیوں کا مؤقف ہے کہ اگر طلباء کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہے تو مصنوعی ذہانت سے منہ موڑنے کے بجائے اس کے درست استعمال کے اصول وضع کرنے چاہئیں۔ اس کشمکش نے آسٹریلوی حکومت اور تعلیمی بورڈز کو بھی دباؤ میں ڈال دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے کوئی واضح اور متفقہ پالیسی مرتب کریں۔ آنے والے دنوں میں آسٹریلیا کا تعلیمی نظام اس فیصلے کے اثرات کا مشاہدہ کرے گا۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ملک کے مختلف تعلیمی ادارے اپنے اپنے طریق کار کے مطابق اے آئی کے حوالے سے الگ الگ حکمت عملی اپنائیں گے۔ تعلیمی مستقبل کا یہ موڑ اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ ٹیکنالوجی کس حد تک انسانوں کی جگہ لے سکتی ہے اور روایتی تدریسی طریقوں کی بقا کتنی اہم ہے۔