LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام پر حکومتی موقف

News Image
وفاقی حکومت نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبے بنانے کے حوالے سے اٹھنے والے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس معاملے پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے جہاں مختلف رہنما اپنے اپنے سیاسی مقاصد کے تحت نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کر رہے ہیں۔
وفاقی حکومت نے ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے حوالے سے اٹھنے والے مطالبات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں سیاسی حلقوں کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی تشکیل کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا تھا، جس پر حکومت نے واضح کیا ہے کہ فی الحال ایسے کسی بھی منصوبے پر غور نہیں کیا جا رہا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاق رائے اور آئینی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے، جو فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔ دوسری جانب، سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے آرا منقسم ہیں۔ علیم خان اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ہزارہ صوبے کے قیام سمیت نئے انتظامی یونٹس بنانے کی حمایت سامنے آئی ہے۔ ان رہنماؤں کا استدلال ہے کہ بڑے صوبوں کا انتظام سنبھالنا مشکل ہو چکا ہے اور عوام کی سہولت کے لیے چھوٹی اکائیاں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ تاہم، وفاقی حکومت ان مطالبات کو سیاسی مفادات کے تناظر میں دیکھ رہی ہے اور اسے ملک کے وفاقی ڈھانچے کے لیے غیر ضروری قرار دے رہی ہے۔ ادھر حزب اختلاف اور بعض حکومتی اتحادیوں کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً نئے صوبوں کے قیام کے بیانات دیے جاتے رہے ہیں۔ ایک اہم بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ نئے صوبوں کی ترمیم حکومت کی مرضی کے بغیر لائی جائے گی، جس نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حکومت نے ان تمام دعووں کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انتظامی تبدیلیوں کا فیصلہ کسی دباؤ میں آکر نہیں کیا جائے گا۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس بحث کو محض عوامی توجہ حاصل کرنے کا ایک حربہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام ایک پیچیدہ آئینی اور سیاسی عمل ہے۔ وزیراعظم کے مشیران اور قانونی ماہرین بھی مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے پر زور دے رہے ہیں تاکہ نچلی سطح پر عوام کے مسائل حل کیے جا سکیں۔ حکومت کی جانب سے فی الحال نئے صوبوں کے بجائے مقامی حکومتوں کے نظام کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کا اشارہ دیا گیا ہے، تاکہ انتظامی امور میں بہتری لائی جا سکے اور عوامی تکالیف کا مداوا ممکن ہو سکے۔