LIVE
Loading Breaking News...

صومالی قزاقوں کی واپسی: تجارتی بحری جہاز ہائی جیک

News Image
صومالیہ کے قریب بحیرہ عرب میں مسلح افراد نے ایک تجارتی کارگو جہاز کو اغوا کر لیا ہے۔ یہ واقعہ خطے میں سمندری قزاقی کی دوبارہ بڑھتی ہوئی لہر کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
صومالیہ کے ساحل کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں ایک تجارتی کارگو بحری جہاز کو مسلح سمندری ڈاکوؤں نے یرغمال بنا لیا ہے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق، آٹھ مسلح افراد نے جہاز پر دھاوا بولا اور عملے کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کے حوالے سے خدشات میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق جہاز سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد سے امدادی کارروائیاں شروع کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاہم اغوا کاروں کے مطالبات تاحال واضح نہیں ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صومالی قزاقوں کی جانب سے دوبارہ سرگرمیوں کا آغاز ممکنہ طور پر بھاری تاوان کے حصول کی لالچ کی وجہ سے ہوا ہے۔ طویل عرصے تک خاموشی کے بعد سمندری ڈاکوؤں کا دوبارہ متحرک ہونا عالمی جہاز رانی کے شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ خاص طور پر بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب کے تجارتی راستوں پر سیکیورٹی کی صورتحال خراب ہونے سے تیل اور دیگر اشیاء کی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی قوتیں اس علاقے میں گشت بڑھانے پر غور کر رہی ہیں تاکہ جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس ہائی جیکنگ کے بعد سے خطے میں موجود تجارتی کمپنیوں نے اپنے بحری جہازوں کے روٹس تبدیل کرنے اور ہنگامی سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ صومالیہ کے ساحلی علاقوں میں قزاقی کی یہ نئی لہر حالیہ عالمی کشیدگی بالخصوص آبنائے ہرمز کی بندش کے تناظر میں بھی دیکھی جا رہی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی بحری سیکیورٹی اداروں نے تمام متعلقہ جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس علاقے سے گزرتے ہوئے انتہائی احتیاط برتیں اور مشکوک کشتیوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس بحران کو حل کرنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کی جائیں گی۔ اقوام متحدہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کی گئی ہے اور سمندری حدود میں امن و امان کی بحالی کے لیے مزید مربوط حکمت عملی اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔ فی الحال، یرغمال بنائے گئے جہاز اور اس کے عملے کی بحفاظت بازیابی اولین ترجیح ہے، جس کے لیے بحری سیکیورٹی فورسز نے اپنی نگرانی کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا ہے۔