LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات پر تبصرہ اور سخت فوجی کارروائی کا انتباہ

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے تاہم تہران کے ساتھ بات چیت ناکام ہونے کی صورت میں شدید فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔ خلیجی خطے میں کشیدگی اور ڈرون حملوں کے پس منظر میں یہ بیانات خطے کی سیاسی صورتحال میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان اچھے مذاکرات جاری ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خلیجی ممالک میں خلیجی اہداف پر ڈرون حملوں کے بعد کشیدگی کا ماحول پایا جاتا ہے، تاہم حالیہ دنوں میں حملوں میں کچھ کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ ٹرمپ کا اصرار ہے کہ سفارتی کوششیں اپنی جگہ جاری ہیں لیکن اگر تہران کے ساتھ بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی تو امریکہ سخت فوجی اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف میڈیا ہاؤسز اور رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن کے خواہاں ہیں اور اس مقصد کے لیے سفارت کاری کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔ امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر سفارتی سطح پر کوئی قابلِ قبول پیش رفت نہ ہوئی تو امریکہ تہران کے خلاف انتہائی مضبوط اور فیصلہ کن فوجی کارروائی کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار بیٹھا ہے۔ دوسری جانب سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ خلیج میں ڈرون حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی نے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ میں اضافے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اور معاشی استحکام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ دونوں اطراف سے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے، لیکن کسی بھی وقت صورتحال بگڑنے کے خدشات بدستور برقرار ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان اس تازہ کشیدگی کے تناظر میں بین الاقوامی برادری فریقین پر زور دے رہی ہے کہ وہ جنگی جنون کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل کا پرامن حل نکالیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں بھی خطے میں تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑی تباہی سے بچا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا سفارتی مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچتے ہیں یا کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔