World
ٹرمپ کی عمان کو سنگین دھمکی، ایران معاہدہ تنازع کا شکار
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر عمان نے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے راستے میں رکاوٹ ڈالی تو وہ اس پر بمباری کر سکتے ہیں۔ اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور سفارتی حلقوں میں اسے انتہائی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتہائی متنازع اور دھمکی آمیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی اتحادی ملک عمان نے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے نفاذ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کی تو وہ اس پر بمباری کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران کے ساتھ کشیدگی عروج پر ہے اور جوہری معاہدوں اور جنگ بندی کے امور پر عالمی طاقتیں منقسم دکھائی دیتی ہیں۔ ٹرمپ کا یہ بیان بین الاقوامی سفارتی آداب کے برعکس سمجھا جا رہا ہے جس نے ان کے حامیوں اور ناقدین دونوں کو حیران کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف امریکہ اور عمان کے تاریخی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ خطے میں پہلے سے موجود عدم استحکام میں بھی مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔ عمان جو کہ طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ میں ایک غیر جانبدار اور ثالث کردار ادا کرتا آیا ہے، اس بیان کے بعد سخت دباؤ کا شکار ہے۔ سی این این اور دیگر عالمی میڈیا ذرائع کے مطابق، ٹرمپ کا موقف یہ ہے کہ وہ ایران کے معاملے پر کسی بھی قسم کی مداخلت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایران کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب آتے ہی ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کو اب 'سفید جھنڈا' لہرا دینا چاہیے اور کسی بھی قسم کی مزاحمت نہیں کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمان کا کردار اس معاملے میں اہم ہے لیکن اگر وہ واشنگٹن کی پالیسیوں کے آڑے آیا تو نتائج سنگین ہوں گے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ عمان اکثر اوقات امریکہ اور ایران کے درمیان پس پردہ مذاکرات کے لیے ایک محفوظ مقام فراہم کرتا رہا ہے۔ اس دھمکی کے بعد عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ نہ صرف ایران کے ساتھ محاذ آرائی کا حصہ ہے بلکہ یہ ٹرمپ کی 'پہلے امریکہ' کی پالیسی کا ایک جارحانہ اظہار بھی ہے۔ خطے کے دیگر ممالک بھی اس بیان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اگر امریکہ اپنے اتحادیوں کے خلاف اس قسم کی زبان استعمال کرے گا تو اس سے عالمی اتحادوں پر اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے۔ فی الحال عمان کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سفارتی ذرائع اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ واشنگٹن اور مسقط کے درمیان اس حوالے سے رابطے جاری ہو سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے سیاسی تجزیہ کار اس واقعے کو ایران کے ساتھ بدلتی ہوئی جنگی صورتحال کا ایک خطرناک موڑ قرار دے رہے ہیں۔