LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس کا صدر منتخب

News Image
پاکستان نے جنیوا میں ہونے والی اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس کی صدارت باضابطہ طور پر سنبھال لی ہے۔ اس اہم ذمہ داری کو عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے پاکستان کی مستقل کوششوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان نے جنیوا میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس کی صدارت سنبھال لی ہے، جو عالمی سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ، طاہر اندابی اس کانفرنس کی صدارت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ یہ عہدہ عالمی سطح پر تخفیفِ اسلحہ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کانفرنس کا یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا کو پیچیدہ جغرافیائی سیاسی چیلنجز اور نئے سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔ پاکستان اس کانفرنس کی آخری صدارت سنبھالنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جو کہ عالمی فورمز پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی ساکھ کو ظاہر کرتا ہے۔ اپنے صدارتی دور کے دوران پاکستان کا مرکزی فوکس بین الاقوامی امن و امان کے قیام، ایٹمی عدم پھیلاؤ، اور جدید ٹیکنالوجی کے فوجی استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات پر قابو پانے کے لیے رکن ممالک کے مابین اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ پاکستان روایتی طور پر بھی تخفیفِ اسلحہ کے عالمی معاہدوں کا حامی رہا ہے اور اس پلیٹ فارم کے ذریعے وہ عالمی برادری کو ایک مثبت سمت میں گامزن کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق، اس صدارت کا ملنا پاکستان کی اس پالیسی کی کامیابی ہے جس میں وہ ہمیشہ سے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیتا ہے۔ طاہر اندابی کی سربراہی میں یہ کانفرنس مختلف ممالک کے نمائندگان کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کرے گی تاکہ عالمی ہتھیاروں کی دوڑ کو کم کیا جا سکے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک بڑا موقع ہے کہ وہ اپنے امن دوست تشخص کو مزید مستحکم کرے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر پائیدار امن کے حصول کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ اس کانفرنس کے ایجنڈے میں مختلف اہم امور شامل ہیں، جن میں خلائی ہتھیاروں کا تدارک، ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام اور نئے ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی چیلنجز پر غور کیا جانا شامل ہے۔ پاکستان کی صدارت کے دوران توقع ہے کہ وہ تمام رکن ممالک کو ایک میز پر لانے میں کامیاب رہے گا تاکہ مستقبل کے لیے ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ عالمی برادری بھی پاکستان کی اس قیادت سے پرامید ہے کہ یہ فورم عالمی سکیورٹی کے تحفظ کے لیے نئے اور جدید معیارات وضع کرنے میں کردار ادا کرے گا۔