LIVE
Loading Breaking News...

سپر گرل فلم اور اے آئی تنازعہ: کیا ہالی وڈ مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال کر رہا ہے؟

News Image
وارنر بروس اور ڈی سی اسٹوڈیوز کی آنے والی فلم سپر گرل کو اس وقت ایک تنازعہ کا سامنا کرنا پڑا جب مداحوں نے اس کی پردے کے پیچھے کی ویڈیو میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے تیار کردہ آرٹ ورک کی نشاندہی کی۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت کے تخلیقی صنعتوں میں استعمال کے خلاف ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
ہالی وڈ کے بڑے اسٹوڈیوز اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے تعلقات نے ایک بار پھر فلم بینوں اور تخلیقی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حال ہی میں وارنر بروس اور ڈی سی اسٹوڈیوز کی متوقع فلم 'سپر گرل' (Supergirl) اس وقت تنازعات کی زد میں آ گئی جب مداحوں نے پردے کے پیچھے (Behind-the-scenes) کی ایک مختصر ویڈیو کلپ میں مشتبہ طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ کانسپٹ آرٹ کو دیکھا۔ اس کلپ کے سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی انٹرنیٹ صارفین نے اس کی تکنیکی خامیوں اور اے آئی کے استعمال پر شدید تنقید شروع کر دی ہے۔ اس تنازعے کی جڑیں اس عمومی خدشے میں پنہاں ہیں جو آج کل ہالی وڈ کے تخلیقی حلقوں میں پایا جاتا ہے۔ فنکار، مصور اور کہانی نویس طویل عرصے سے اس بات پر آواز اٹھا رہے ہیں کہ اسٹوڈیوز لاگت بچانے کے لیے انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو اے آئی ٹولز سے تبدیل کر رہے ہیں۔ جب سپر گرل کے پروڈکشن کلپس میں اے آئی کی جھلک دیکھی گئی، تو شائقین نے اسے ایک خطرناک رجحان قرار دیا۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک بڑی بجٹ والی فلم، جو کروڑوں ڈالر کے منافع کی امید رکھتی ہو، اسے ایسے شارٹ کٹس استعمال نہیں کرنے چاہئیں جو اصل فنکاروں کی حق تلفی کا باعث بنیں۔ اس معاملے پر ہونے والی بحث صرف ایک فلم تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اس وسیع تر جنگ کا حصہ ہے جو آرٹ اور ٹیکنالوجی کے درمیان جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے استعمال سے بنی تصاویر میں اکثر تضادات ہوتے ہیں، جیسے کہ انسانی اعضاء کی عجیب بناوٹ یا پس منظر میں غیر واضح تفصیلات، جو فلم کی مجموعی کوالٹی کو متاثر کرتی ہیں۔ اگرچہ اسٹوڈیوز کی جانب سے ابھی تک اس پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، لیکن مداحوں کا مطالبہ ہے کہ فلم سازی میں انسانی محنت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ مستقبل میں یہ تنازعہ کس رخ موڑ لے گا، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ فلمی صنعت کے لیے عوامی اعتماد برقرار رکھنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ اگر بڑی فلم ساز کمپنیاں اپنی تخلیقی ٹیموں میں اے آئی کو بے دریغ استعمال کرتی رہیں، تو انہیں آنے والے وقتوں میں مزید بائیکاٹ اور تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مداحوں کا مطالبہ ہے کہ فلموں میں آرٹ ورک کا معیار برقرار رکھا جائے تاکہ کہانی سنانے کا یہ قدیم فن اپنی اصل روح کے ساتھ باقی رہے۔