LIVE
Loading Breaking News...

آسٹریلیا سوشل میڈیا پابندی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کا موقف

News Image
آسٹریلیا میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر افراد پر عائد پابندی کے ابتدائی نتائج کو جلد بازی میں نہ پرکھے۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی اعداد و شمار حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔
آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے حکام کو خبردار کیا ہے۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان ابتدائی رپورٹس اور اعداد و شمار پر ضرورت سے زیادہ انحصار نہیں کرنا چاہیے جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پابندی کے باوجود بڑی تعداد میں بچے اب بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی فرموں نے نشاندہی کی ہے کہ اس قسم کے نئے قوانین کے نفاذ کے بعد ابتدائی نتائج اکثر گمراہ کن ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ نظام کو مکمل طور پر فعال ہونے اور بچوں میں شعور بیدار ہونے میں وقت لگتا ہے۔ متعلقہ کمپنیوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ پابندی کے بعد سامنے آنے والا ڈیٹا بہت محدود ہے اور اسے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اپنے پلیٹ فارمز پر سخت چیکنگ اور تصدیقی نظام کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں تاکہ حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، کمپنیوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف تکنیکی پابندیاں ہی مسئلے کا مکمل حل نہیں ہو سکتیں بلکہ اس کے لیے والدین اور معاشرے کا کردار بھی کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ دوسری جانب آسٹریلوی قانون سازوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے پورا کریں۔ پارلیمانی حلقوں کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں منافع کے حصول کے لیے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ حکومت اب اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا ان کمپنیوں کے لیے مزید سخت جرمانوں کا نفاذ کیا جائے تاکہ پابندیوں کو موثر بنایا جا سکے۔ اس بحث نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے کتنا خطرناک ہے اور آیا ریاستی سطح پر ایسی پابندیاں انٹرنیٹ کی آزادی کو متاثر تو نہیں کر رہیں۔ آئندہ چند ماہ میں آسٹریلوی حکومت اس پابندی کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لے گی جس کے بعد ہی پالیسی میں مزید ترامیم یا سختی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتی اداروں کے درمیان یہ رسہ کشی آنے والے وقت میں مزید بڑھ سکتی ہے، کیونکہ ڈیٹا کی شفافیت اور صارفین کی پرائیویسی اس پورے معاملے کا اہم ترین حصہ بن چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فی الحال اپنے دفاع میں یہ دلیل دے رہے ہیں کہ وہ حکومتی تعاون کے بغیر بچوں کو مکمل طور پر روکنے سے قاصر ہیں اور انہیں اس کام کے لیے بہتر تکنیکی انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔