LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایران کی امریکہ کو براہ راست دھمکی

News Image
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ سفارتی کوششیں بارآور ثابت نہ ہوئیں تو وہ آبنائے ہرمز میں جارحانہ حکمت عملی اختیار کرے گا۔ یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی جانب سے اپنی دفاعی حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
ایران کی جانب سے ایک سخت انتباہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ سفارت کاری کا عمل ناکام رہتا ہے تو تہران آبنائے ہرمز میں ایک جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہوگا۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایرانی حکام نے اپنی عسکری پالیسی میں نمایاں تبدیلی کے اشارے دیے ہیں اور یہ واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ایران نے گزشتہ 60 دنوں کے دوران ایک ایسے معاہدے (MOU) کے تحت تیاریوں کو تیز کر دیا ہے جس کا مقصد ممکنہ طور پر جنگ کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ہے۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ بشمول رائٹرز اور الجزیرہ نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی قیادت اب مکمل طور پر ایک جارحانہ موقف اپنانے کی جانب مائل ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد بظاہر امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنا اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے خلاف عملی کارروائیوں کو تیز کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران نے سفارتی راستوں کے ساتھ ساتھ عسکری تیاریوں کو بھی اپنی ترجیحات میں سرِفہرست رکھا ہے۔ دوسری جانب، امریکہ کی جانب سے تاحال اس دھمکی پر کوئی باضابطہ سخت ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم مغربی ممالک اس صورتحال کو گہری تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی فوجی جھڑپ یا کشیدگی کا مطلب عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے پہلے ہی معاشی بحران کا شکار دنیا مزید مشکلات میں گھر سکتی ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اس کی پالیسی اب صرف دفاعی نہیں رہی بلکہ حالات کا تقاضا ہے کہ وہ جارحانہ انداز میں اپنے دفاع کو یقینی بنائے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین جاری یہ لفظی جنگ دراصل خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ایران نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آنے والے دن انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔ عالمی برادری اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ آیا یہ دھمکیاں صرف سیاسی دباؤ کا حصہ ہیں یا حقیقت میں کسی بڑی عسکری کارروائی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی۔