Politics
پاکستان میں بلدیاتی نظام کو بااختیار بنانے کا مطالبہ
ملک میں بلدیاتی نظام کو مزید بااختیار بنانے اور انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کے لیے اہم سیاسی رہنماؤں نے آواز اٹھا دی ہے۔ سیاسی حلقوں میں نئے صوبوں کے قیام اور بلدیاتی خود مختاری پر بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔
ملک میں سیاسی اور انتظامی استحکام کے لیے بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ حال ہی میں بیرسٹر عقیل اور وزیراعظم کے معاونین خصوصی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی نہیں ہوگی، تب تک گڈ گورننس کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ان رہنماؤں کا ماننا ہے کہ عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے بلدیاتی اداروں کا مضبوط ہونا ناگزیر ہے، جس کے بغیر جمہوریت کی جڑیں مضبوط نہیں کی جا سکتیں۔ اس حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنی حکمت عملی واضح کرنا شروع کر دی ہے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ اور اس پر قومی سطح پر مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتظامی بنیادوں پر نئی اکائیاں بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی کاموں کو تیز کیا جا سکے۔ مصطفیٰ کمال نے بھی اپنے حالیہ بیانات میں انتظامی اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں ایسے فیصلوں سے گریز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا موقف ہے کہ موجودہ گورننس ماڈل میں تبدیلیاں لانا اب ایک ناگزیر عمل بن چکا ہے۔
دریں اثنا، میاں عامر محمود سمیت دیگر ماہرینِ امورِ حکومت نے بھی اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ بہتر حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ایک موثر حل ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے صوبوں کا انتظام سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، لہذا چھوٹے اور فعال انتظامی یونٹس ہی عوامی سہولیات کی فراہمی میں بہتری لا سکتے ہیں۔ اگرچہ کچھ سیاسی جماعتیں، جیسے کہ نیشنل پارٹی، نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کر رہی ہیں، لیکن ملکی سطح پر انتظامی خود مختاری اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا مطالبہ ایک اہم سیاسی بحث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔