World
بھارت کا عسکریت پسند نیٹ ورک پکڑنے کا دعویٰ اور پاکستان کا ردعمل
بھارتی حکام نے پاکستان کی حمایت یافتہ عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف بڑی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے 200 سے زائد مشتبہ افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا ہے۔
بھارتی سیکیورٹی اداروں نے حال ہی میں ایک بڑے آپریشن کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان کی حمایت یافتہ عسکریت پسند تنظیموں کے کئی حملوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں ملک بھر سے 200 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن پر مبینہ طور پر سرحد پار سے ہدایات ملنے اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان افراد کا نیٹ ورک خاص طور پر نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور انہیں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے میں ملوث تھا۔ اس ضمن میں شہزاد بھٹی نامی ایک شخص کا نام بھی سامنے آیا ہے، جسے مبینہ طور پر اس نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت مسلسل اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پاکستان پر بے جا الزامات عائد کرتا رہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ الزامات صرف سیاسی مقاصد کے لیے لگائے گئے ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ خطے میں امن کا خواہاں ہے اور اس طرح کے من گھڑت الزامات دوطرفہ تعلقات کو مزید خراب کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہیں۔
بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد میں سے کئی ایسے ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے سرحد پار بیٹھے ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ہینڈلرز خاص طور پر کم عمر اور جذباتی نوجوانوں کو ہدف بناتے ہیں تاکہ انہیں شدت پسندی کی طرف راغب کیا جا سکے۔ اس پوری پیش رفت نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی کو نئی ہوا دی ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگا رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے الزامات سے خطے کا سیکیورٹی ماحول مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے اور سفارتی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان خلیج بڑھنے کا خدشہ ہے۔