World
غزہ معاہدہ: نیتن یاہو اور جیرڈ کشنر کی ملاقات بے نتیجہ ختم
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق امریکی ایلچی جیرڈ کشنر کے درمیان غزہ معاہدے کے حوالے سے ہونے والی بات چیت کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے باوجود جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں تعطل برقرار ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور مشیر جیرڈ کشنر کے درمیان غزہ میں جاری کشیدگی اور امن منصوبوں کے حوالے سے ہونے والی ملاقات کسی بھی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئی ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، کشنر کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر مذاکرات کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہیں۔ اس ملاقات کا مقصد ٹرمپ انتظامیہ کے پرانے امن فارمولوں کا جائزہ لینا اور موجودہ حالات میں کسی درمیانی راستے کی تلاش تھا، تاہم فریقین کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے۔
واضح رہے کہ جیرڈ کشنر نے اس سے قبل حماس کے نمائندوں کے ساتھ بھی بات چیت کی تھی تاکہ امن عمل کو دوبارہ پٹری پر لایا جا سکے۔ ان کوششوں کے باوجود، حماس اور اسرائیل دونوں کے اپنے سخت مؤقف پر قائم رہنے کے باعث حالات میں بہتری کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کشنر کی حالیہ سفارت کاری اس بات کی عکاس ہے کہ امریکی حلقے غزہ میں جاری خونریزی کو ختم کرنے کے لیے پس پردہ متحرک ہیں، لیکن زمینی حقائق انتہائی پیچیدہ ہیں۔ نیتن یاہو کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت مطالبات اور حماس کی جانب سے مکمل جنگ بندی کی شرائط نے کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں دیوار کھڑی کر رکھی ہے۔
اس دورے کے اگلے مراحل میں جیرڈ کشنر کے مصر اور دیگر علاقائی ممالک کے دورے بھی متوقع ہیں تاکہ غزہ کے مستقبل اور بحالی کے منصوبوں پر بات کی جا سکے۔ تاہم، سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک اسرائیل اور حماس کے درمیان اعتماد سازی کا عمل شروع نہیں ہوتا، کسی بھی بیرونی ثالثی کے ذریعے دیرپا امن کا قیام مشکل دکھائی دیتا ہے۔ غزہ میں انسانی بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے اور عالمی برادری مسلسل جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن فی الحال سفارتی کوششیں بار بار ناکامی کا سامنا کر رہی ہیں، جس سے خطے میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔