World
لبنان میں بڑھتی کشیدگی: عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق
اقوام متحدہ کی امن فوج نے لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور گولہ باری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سرحد پار روزانہ اوسطاً 137 گولے داغے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی امن فوج (یونیفل) نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر جاری شدید کشیدگی کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجی کارروائیوں میں اضافے کے باعث عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں اور دونوں جانب جاری گولہ باری کا براہ راست اثر عام آبادی پر پڑ رہا ہے۔ فوجی سرگرمیوں میں اس تیزی نے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے معمولات زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
یونیفل کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سرحدی علاقوں میں شدید تصادم دیکھا گیا ہے جس میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران روزانہ اوسطاً 137 گولے سرحد کے آر پار فائر کیے گئے، جو کہ علاقے میں قیام امن کی کوششوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس مسلسل گولہ باری نے نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ سرحدی دیہاتوں سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ بھی تیز تر کر دیا ہے، جس سے ایک انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔
اقوام متحدہ نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بگاڑنے کا باعث بنیں۔ بین الاقوامی برادری بھی اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا شکار ہے اور سفارتی ذرائع سے جنگ بندی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ فوجی تناؤ میں کمی کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے ہیں، جس سے خطے میں مزید بدامنی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
آخر میں، یونیفل نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مینڈیٹ کے مطابق کشیدگی کم کروانے کے لیے کوشاں ہے، لیکن اس کے لیے دونوں فریقین کی طرف سے تعاون انتہائی ضروری ہے۔ عام شہریوں کا تحفظ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک بنیادی ذمہ داری ہے، جس کی خلاف ورزی خطے کو ایک بڑی تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو سرحدی علاقوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔