LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا ایران کے ساتھ نئے جوہری معاہدے کے امکان پر سخت موقف

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران ان کی شرائط کے مطابق ڈیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کے ساتھ کوئی بھی نیا معاہدہ امریکہ کے مفاد میں نہیں ہوگا۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ بیان میں ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے نئے جوہری معاہدے کے امکانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ ایران ان شرائط اور اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جو وہ ایک کامیاب اور مستحکم معاہدے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ اپنی صدارت کے دوران بھی ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے سابقہ جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) سے امریکہ کو یکطرفہ طور پر الگ کر لیا تھا اور تہران پر سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اب ایک بار پھر ان کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ایران کے حوالے سے اپنی پرانی سخت پالیسی پر قائم ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے جس طرح کے سخت اقدامات اور نگرانی کی ضرورت ہے، اس پر موجودہ ایرانی قیادت کبھی بھی آمادہ نہیں ہوگی۔ وہ اکثر اپنے انتخابی جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں اس بات کا اعادہ کرتے رہے ہیں کہ ان کی انتظامیہ نے ایران کو دباؤ میں رکھا تھا اور اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو ان کی حکمت عملی ایران کے خلاف مزید سخت ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ کے حامیوں کا خیال ہے کہ طاقت کے ذریعے ہی ایران کو اپنے جوہری عزائم سے باز رکھا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، ایران نے ہمیشہ ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ امریکہ کو بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور پابندیاں ہٹا کر مذاکرات کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ تاہم، ٹرمپ کے اس تازہ بیان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان موجود خلیج اب بھی بہت گہری ہے اور مستقبل قریب میں کسی بھی سفارتی پیش رفت کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں۔ عالمی برادری بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تیل کی قیمتوں اور عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ اس صورتحال میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اگر ٹرمپ آئندہ امریکی انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو وہ ایران کے خلاف کس قسم کی نئی حکمت عملی اپناتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک 'بہتر معاہدہ' کر سکتے ہیں، لیکن ایران کی جانب سے ملنے والا ردعمل اور خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیش نظر اس طرح کی سفارتی کامیابی کے حصول کو انتہائی مشکل قرار دیا جا رہا ہے۔ فی الحال، دونوں ممالک کے درمیان تلخیوں کا سلسلہ جاری ہے اور کوئی بھی فریق اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار دکھائی نہیں دیتا۔