LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کو عدالت میں بڑا دھچکا، جنسی زیادتی کیس میں اپیل مسترد

News Image
امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ای جین کیرول کے خلاف دائر کردہ ایک اور اپیل کو مسترد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ٹرمپ کے قانونی مسائل میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکہ کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دائر کردہ ایک اہم اپیل کو مسترد کر دیا ہے، جو 1996 میں پیش آنے والے جنسی زیادتی کے ایک پرانے کیس سے متعلق تھی۔ یہ فیصلہ ای جین کیرول کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی سمجھا جا رہا ہے، جنہوں نے ٹرمپ پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے دہائیوں قبل ان کے ساتھ نازیبا سلوک کیا تھا۔ عدالت کی جانب سے اپیل خارج ہونے کا مطلب ہے کہ ٹرمپ کو اب ان قانونی چیلنجوں کا سامنا بدستور جاری رہے گا جو ان کی سیاسی ساکھ اور صدارتی مہم کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ اس کیس کی تاریخ کافی طویل ہے جس میں ای جین کیرول نے ٹرمپ پر یہ الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ایک ڈپارٹمنٹ سٹور میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔ ٹرمپ نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا اور متعدد بار عدالتی کارروائی کے خلاف اپیلیں دائر کیں۔ تاہم سپریم کورٹ کا یہ تازہ ترین فیصلہ ان قانونی کوششوں کو ایک اور دھچکا ہے۔ اس سے قبل بھی نچلی عدالتوں نے کیس کے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ٹرمپ کے خلاف فیصلہ دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ اقدام ٹرمپ کے لیے ایک اہم قانونی رکاوٹ ہے۔ اگرچہ ٹرمپ اس پورے معاملے کو سیاسی انتقام قرار دیتے رہے ہیں، تاہم عدالتوں نے ان کے موقف کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس کیس میں فیصلے کے نتیجے میں ٹرمپ پر مالی جرمانے بھی عائد کیے گئے تھے، اور حالیہ عدالتی پیش رفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکی عدلیہ ان الزامات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ ٹرمپ کے ترجمانوں نے ابھی تک اس عدالتی فیصلے پر کوئی تفصیلی ردعمل نہیں دیا ہے، لیکن ان کی ٹیم کی جانب سے قانونی جنگ کو جاری رکھنے کے اشارے مل رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ٹرمپ کی قانونی ٹیم اب کون سا نیا راستہ اختیار کرتی ہے۔ ای جین کیرول کے وکلاء نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے انصاف کی جیت قرار دیا ہے۔ سیاسی منظرنامے پر اس کیس کے اثرات گہرے ہیں کیونکہ ٹرمپ اس وقت اپنی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ان کے حامیوں کی جانب سے بھی ان عدالتی کارروائیوں پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ کیس نہ صرف ایک قانونی جنگ ہے بلکہ امریکہ میں خواتین کے حقوق اور طاقتور شخصیات کے احتساب کے حوالے سے ایک علامتی حیثیت بھی اختیار کر چکا ہے۔