World
ایران کی نئی جارحانہ پالیسی اور امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو وہ اپنی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی لائے گا۔ تہران نے آبنائے ہرمز میں جارحانہ پالیسی اپنانے اور امریکی زمینی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔
ایران نے حال ہی میں اپنی فوجی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی لانے کا اشارہ دیا ہے، جس کے تحت وہ امریکی زمینی کارروائیوں کا بھرپور جواب دینے اور خطے میں اپنے جارحانہ موقف کو مزید مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، تہران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی مذاکرات اور طے شدہ معاہدوں کی شرائط پر عمل درآمد ناکام ہوتا ہے تو ایران اپنی دفاعی پالیسی کو 'مکمل طور پر جارحانہ' (fully offensive) رخ دے سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی سے سیاسی اور عسکری تناؤ اپنے عروج پر ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی فوجی نقل و حرکت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ وہاں کسی بھی ممکنہ امریکی مداخلت کا سامنا کرنے کے لیے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 60 روزہ میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (MOU) کی مدت کے دوران ایران نے خاموشی سے اپنی عسکری صلاحیتوں کو بہتر بنایا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر جنگ کے دائرہ کار کو وسیع کیا جا سکے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ وہ سفارت کاری کو موقع دینے کے حق میں تو ہیں، تاہم اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور امریکی دباؤ کا عملی جواب دینے کے لیے ہر طرح کے اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
خطے کے بدلتے ہوئے حالات اور ایران کی جانب سے ملنے والی ان تنبیہات نے بین الاقوامی برادری، بالخصوص خلیجی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر فریقین کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوئی تو خطے میں عسکری تصادم کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ ایران کی یہ نئی حکمت عملی نہ صرف آبنائے ہرمز کی اہم آبی گزرگاہ کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی چین کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ فی الحال تہران کی جانب سے دی گئی یہ دھمکی امریکہ کے لیے ایک سخت پیغام ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تعلقات میں 'نرمی' کی پالیسی جاری رکھنے کے بجائے عملی اور سفارتی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔