LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس: پاکستان کی صدارت کا آغاز

News Image
پاکستان نے جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس کی صدارت سنبھال لی ہے جس کا مقصد ایٹمی جنگ اور خلائی ہتھیاروں کے خطرات کو روکنا ہے۔ اس اہم ذمہ داری کے ذریعے پاکستان عالمی امن اور سلامتی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
پاکستان نے جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کی تخفیفِ اسلحہ کانفرنس (Conference on Disarmament) کی صدارت باضابطہ طور پر سنبھال لی ہے۔ یہ عالمی ادارہ بین الاقوامی امن و امان کے قیام اور ایٹمی جنگ کے خطرات کو ٹالنے کے لیے ایک انتہائی اہم فورم سمجھا جاتا ہے۔ اس صدارت کے دوران پاکستان کی ترجیح یہ ہوگی کہ دنیا بھر میں موجود جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکا جائے اور خلا میں کسی بھی قسم کے ہتھیاروں کی تنصیب کو ممنوع قرار دینے کے لیے عالمی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ اس موقع پر پاکستانی مندوبین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی صورتحال میں ایٹمی ہتھیاروں کا عدم پھیلاؤ اور خلائی ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنا انسانیت کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی تخفیفِ اسلحہ کے حوالے سے عالمی سطح پر اپنی تعمیری کوششوں کا اعادہ کرتا رہا ہے اور یہ صدارت اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں اور امن پسندی پر اعتماد کرتی ہے۔ کانفرنس میں شریک دیگر ممالک کے نمائندوں نے بھی پاکستان کی قیادت کا خیرمقدم کیا ہے۔ کانفرنس کے دوران پاکستان اس بات پر زور دے گا کہ خلا کو کسی بھی قسم کے عسکری تصادم سے پاک رکھا جائے تاکہ یہ خطہ صرف پرامن سائنسی تحقیق اور انسانی ترقی کے کام آ سکے۔ ماہرین کے مطابق خلا میں ہتھیاروں کی موجودگی نہ صرف عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے سیاروں اور خلائی نیٹ ورکس کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ بڑی طاقتیں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے معاہدوں پر دستخط کریں جو دنیا کو ایٹمی تباہی اور خلائی تنازعات سے محفوظ رکھ سکیں۔ پاکستان کی یہ صدارت ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب عالمی سطح پر تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کا کردار نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی استحکام کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ جنیوا میں جاری اس اجلاس کے نتیجے میں کچھ ایسے ٹھوس اقدامات سامنے آئیں گے جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور پرامن دنیا کی تشکیل میں معاون ثابت ہوں گے۔ پاکستان کی طرف سے پیش کردہ تجاویز پر عالمی مبصرین کی نظریں جمی ہوئی ہیں کہ آیا یہ کانفرنس ایٹمی تخفیف اور خلائی تحفظ کے حوالے سے کوئی اہم معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں۔