LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ٹریژری مارکیٹ کا بحران اور معاشی خدشات

News Image
امریکی ٹریژری مارکیٹ میں بڑھتا ہوا قلیل مدتی قرض اور مالیاتی استحکام کے بارے میں خدشات عالمی سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ تبدیلیاں امریکی معیشت کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہیں۔
امریکی ٹریژری مارکیٹ اس وقت ایک انتہائی اہم موڑ پر کھڑی ہے، جہاں دو بڑی تبدیلیاں یا 'میگا ٹرینڈز' عالمی مالیاتی نظام کے لیے سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ سب سے پہلی تشویش امریکی حکومت کی جانب سے قلیل مدتی قرضوں پر بڑھتا ہوا انحصار ہے۔ طویل مدتی بانڈز کے بجائے شارٹ ٹرم ڈیٹ پر توجہ مرکوز کرنا اس بات کی علامت ہے کہ امریکی ٹریژری کو اپنی مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل مارکیٹ سے فوری فنڈنگ کی ضرورت ہے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف سود کی شرح میں اتار چڑھاؤ کے خطرات کو بڑھاتی ہے، بلکہ مستقبل کے لیے بھی معاشی غیر یقینی کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ دوسری جانب، امریکہ کی ادائیگیوں کی صلاحیت اور 'خاموش ڈیفالٹ' کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات نے سرمایہ کاروں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ فنانشل ٹائمز اور دیگر معاشی جریدوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ کیا امریکہ اپنی بڑھتی ہوئی قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ کو اٹھانے کی پوزیشن میں ہے؟ اگرچہ امریکہ کو اب بھی دنیا کی محفوظ ترین معیشت سمجھا جاتا ہے، لیکن ٹریژری بانڈز کی مارکیٹ میں بڑھتا ہوا دباؤ اس اعتماد کو متزلزل کر رہا ہے۔ خاص طور پر ستمبر کے مہینے میں مارکیٹ کے روایتی رجحانات اور بانڈز کی فروخت میں تیزی نے 'ٹریژری بانڈ کرائسز' کے امکانات کو تقویت دی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا ماننا ہے کہ اگر امریکی حکومت نے اپنے اخراجات اور قرضوں کے انتظام میں بروقت اصلاحات نہ کیں، تو اس کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی سٹاک اور بانڈ مارکیٹس اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہیں۔ ٹریژری مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کا بحران عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے اعتماد کو ختم کر سکتا ہے، جس سے ڈالر کی ساکھ اور عالمی تجارت دونوں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر، دنیا بھر کے مرکزی بینک اب محتاط انداز اختیار کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے مالیاتی جھٹکے سے بچا جا سکے۔