Business
تائیوانی ڈالر میں تیزی، ایشیائی مارکیٹس میں ڈالر کی قدر گر گئی
بین الاقوامی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کے بعد تائیوانی ڈالر کی قدر میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تائیوان کی کرنسی ایشیا بھر میں نمایاں ترین کارکردگی دکھانے والی کرنسی بن کر ابھری ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں جاری غیر یقینی صورتحال اور امریکی ڈالر کی قدر میں حالیہ گراوٹ کے اثرات ایشیائی کرنسیوں پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، تائیوان کے ڈالر نے زبردست بحالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 0.166 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جس کے بعد اس کی قدر 31 کی نفسیاتی سطح پر دوبارہ آ گئی ہے۔ ڈالر کے خریداروں کے پیچھے ہٹنے سے تائیوانی کرنسی کو تقویت ملی ہے اور یہ ایشیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی کرنسیوں میں سرِفہرست آ گئی ہے۔
اس پیشرفت کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں جن میں مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں جاری تیزی اور تائیوان کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی مانگ میں اضافہ سرفہرست ہے۔ سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری تائیوان کی مجموعی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریڈرز بڑی تعداد میں تائیوانی ڈالر کے آپشنز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ اس بحالی سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈالر کا 32 کی سطح سے نیچے گرنا ایشیائی مارکیٹس کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے جس سے خطے کی دیگر کرنسیوں کو بھی سہارا مل رہا ہے۔
تائیوان کے علاوہ جنوبی کوریا کی کرنسی اور اسٹاک مارکیٹ میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایشیائی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ اگرچہ امریکی ڈالر کی کمزوری عارضی ہو سکتی ہے، لیکن فی الحال تائیوانی ڈالر نے اپنی مضبوط پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا مشورہ ہے کہ موجودہ عالمی اقتصادی حالات میں کرنسی کی قدر میں ہونے والی یہ تبدیلی طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ آئندہ چند ہفتوں کے دوران امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں اور گلوبل مارکیٹ کے رجحانات کا تائیوانی ڈالر کی قدر پر اثر برقرار رہے گا، تاہم فی الحال تیزی کا رجحان برقرار ہے۔