LIVE
Loading Breaking News...

بیلر جینیٹکس ڈیٹا لیک اور قانونی تحقیقات کی تفصیلات

News Image
بیلر جینیٹکس میں ہونے والے سائبر سیکیورٹی واقعے کے بعد ایڈلسن لیکتزن ایل ایل پی نے مریضوں اور ملازمین کا ڈیٹا لیک ہونے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ متاثرہ افراد کو مفت اور خفیہ قانونی مشاورت فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔
امریکی ریاست ٹیکساس میں قائم معروف جینیاتی ٹیسٹنگ کمپنی بیلر جینیٹکس (Baylor Genetics) ایک بڑے سائبر سیکیورٹی واقعے کی زد میں آ گئی ہے جس کے نتیجے میں کمپنی کے مریضوں اور ملازمین کی انتہائی حساس ذاتی معلومات غیر مجاز ہاتھوں تک پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر قومی سطح پر کام کرنے والی معروف قانونی فرم ’ایڈلسن لیکتزن ایل ایل پی‘ (Edelson Lechtzin LLP) نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ کمپنی کا مقصد اس بات کا تعین کرنا ہے کہ ڈیٹا لیک ہونے کی شدت کیا ہے اور اس سے کتنے افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بیلر جینیٹکس کا انفراسٹرکچر ہیکرز کے حملے کا نشانہ بنا، جس کے بعد کمپنی کے سسٹمز میں موجود مریضوں کے طبی ریکارڈز اور ملازمین کی پرسنل انفارمیشن تک رسائی حاصل کر لی گئی۔ یہ واقعہ ڈیٹا سیکیورٹی کے حوالے سے کمپنی کی پالیسیوں پر بڑے سوالات اٹھاتا ہے۔ قانون دانوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ڈیٹا بریچ سے متاثرہ افراد کو شناخت کی چوری (Identity Theft) اور مالی دھوکہ دہی جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایڈلسن لیکتزن ایل ایل پی نے متاثرہ افراد کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے قانونی ماہرین سے رابطہ کریں تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ قانونی فرم نے متاثرین کے لیے مفت اور خفیہ کیس ایویلیوایشن (Case Evaluation) کی سہولت کا اعلان کیا ہے۔ فرم کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں کمپنیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے جدید ترین سیکیورٹی اقدامات کریں۔ اگر تحقیقات کے دوران بیلر جینیٹکس کی جانب سے لاپرواہی ثابت ہوتی ہے تو کمپنی کو بھاری جرمانوں اور قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس وقت ہزاروں افراد، جن کے ڈیٹا پر اثر پڑا ہے، اپنے حقوق اور ممکنہ معاوضے کے حصول کے لیے قانونی راستے اختیار کر رہے ہیں۔ ایڈلسن لیکتزن ایل ایل پی نے تمام متاثرین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے آن لائن اکاؤنٹس کے پاس ورڈ تبدیل کریں اور اپنی کریڈٹ رپورٹس کی نگرانی جاری رکھیں۔ اس طرح کے ڈیٹا لیکس آج کل سائبر کرائم کا ایک بڑا حصہ بن چکے ہیں اور بیلر جینیٹکس کا واقعہ اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ طبی ڈیٹا کی حفاظت کتنی نازک اور اہم ہے۔ کمپنی کی جانب سے تاحال ڈیٹا لیک ہونے کے مکمل پیمانے کے بارے میں حتمی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے ہیں، تاہم قانونی ٹیم پوری مستعدی کے ساتھ معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے کوشاں ہے۔