LIVE
Loading Breaking News...

عالمی مارکیٹ: تیل مہنگا، چپ کے حصص میں مندی کا رجحان

News Image
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے اور ایران کی جانب سے مبینہ حملے کی کوشش کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دوسری جانب آرٹیفیشل انٹیلی جنس سیکٹر میں فروخت کے تسلسل کے باعث چپ ساز کمپنیوں کے حصص میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں آج شدید ہلچل دیکھنے میں آئی جہاں مشرق وسطیٰ سے آنے والی خبروں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری گراوٹ نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے ایک مبینہ حملے کی کوشش کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ توانائی کے شعبے میں اس نئی کشیدگی کے اثرات فوری طور پر تیل کی ترسیل اور قیمتوں پر مرتب ہوئے ہیں، جس سے دنیا بھر کی معیشتوں میں افراط زر کے خدشات ایک بار پھر سر اٹھانے لگے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کا یہ ماحول برقرار رہا تو توانائی کی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔ دوسری طرف ٹیکنالوجی اور بالخصوص مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شعبے میں فروخت کا تسلسل بدستور جاری ہے جس کی وجہ سے چپ ساز کمپنیوں کے حصص کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک کے مستقبل کے حوالے سے بھی سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں کیونکہ مارکیٹ میں خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایشیائی منڈیوں میں خصوصاً سیول کے اسٹاک ایکسچینج میں ایس کے ہائنکس جیسے بڑے ناموں کو نمایاں گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کا اثر عالمی تکنیکی حصص پر بھی پڑا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ شرح سود کے فیصلے سے قبل سرمایہ کار مارکیٹ کے روخ کو لے کر سخت الجھن کا شکار ہیں۔ بینکنگ کے شعبے سے کچھ بہتر نتائج ضرور سامنے آئے ہیں لیکن مجموعی طور پر عالمی اسٹاک مارکیٹیں دباؤ کی زد میں ہیں۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ موجودہ جیو پولیٹیکل کشیدگی اور مالیاتی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ کے باعث آنے والے دنوں میں کاروباری سرگرمیوں میں مزید احتیاط برتی جائے گی۔ مرکزی بینکوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے آئندہ اقدامات اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال ہی طے کریں گے کہ عالمی معیشت کس سمت کا سفر طے کرتی ہے۔