LIVE
Loading Breaking News...

اوکلینڈ ڈیٹا سینٹر منصوبہ: مقامی شہریوں کو کن خدشات کا سامنا ہے؟

News Image
اوکلینڈ کے رہائشی شہر میں قائم کیے جانے والے ایک نئے ڈیٹا سینٹر کے منصوبے کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ اس منصوبے سے ماحول اور وسائل پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
امریکہ کے شہر اوکلینڈ میں 'بہیرنگ کمپنیز' (Behring Companies) کی جانب سے ایک نئے ڈیٹا سینٹر کے قیام کا منصوبہ مقامی شہریوں کی جانب سے شدید تنقید اور تحفظات کی زد میں ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سینٹر کی تعمیر سے شہر کے وسائل، بالخصوص پانی اور توانائی کی کھپت پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ کمپنی اپنے اس منصوبے کو دیگر بڑے پیمانے کے ڈیٹا سینٹرز کے مقابلے میں ایک مختلف اور جدید ماڈل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن شہریوں کا ایک بڑا طبقہ اس وضاحت سے مطمئن دکھائی نہیں دیتا۔ ماہرین کے مطابق، جدید ڈیٹا سینٹرز کے لیے بجلی اور پانی کی ضرورت بہت زیادہ ہوتی ہے، خاص طور پر سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کا بڑے پیمانے پر استعمال ماحول دوست نہیں سمجھا جاتا۔ اوکلینڈ کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہ سہولیات ارد گرد کے ماحول کے لیے گراں بار ثابت ہوتی ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کو حتمی شکل دینے سے پہلے ماحولیاتی اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے اور عوام کے تحفظات کو دور کیا جائے۔ دوسری جانب 'بہیرنگ کمپنیز' کا موقف ہے کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی اور ڈیزائن کے ذریعے ان مسائل کو کم سے کم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ شہر کی اقتصادی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا اور ملازمت کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ تاہم، مقامی کونسل اور کمیونٹی کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شہر کی بنیادی ضروریات اور ماحولیاتی معیار پر سمجھوتہ کسی صورت نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس معاملے پر مقامی انتظامیہ اور عوام کے درمیان بحث و مباحثہ جاری ہے اور حتمی فیصلہ آنے والے ہفتوں میں متوقع ہے۔ مستقبل میں اس طرح کے منصوبوں کے لیے سخت ضوابط کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ اوکلینڈ کے شہری اپنی رہائشی بستیوں میں ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کے پھیلاؤ کے حوالے سے کافی محتاط ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ترقی کے نام پر مقامی وسائل کو ضائع کرنے کے بجائے پائیدار اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کے فروغ اور عوامی مفادات کے درمیان توازن قائم کرنا کتنا ضروری ہے۔