World
امریکہ میں نگرانی کا بڑھتا ہوا نظام اور شہریوں کی آزادی
مشہور تجزیہ کار ڈگ کیسی نے امریکہ میں تیزی سے پھیلتے ہوئے ڈیجیٹل نگرانی کے نیٹ ورک پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی شہری آزادیوں کو محدود کرنے کے لیے ایک منظم سازش کا حصہ ہے۔
امریکہ میں حالیہ برسوں کے دوران جس طرح نگرانی کے انفراسٹرکچر کو پھیلایا جا رہا ہے، اس نے نجی زندگی کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ معروف تجزیہ کار ڈگ کیسی نے اس حوالے سے انتباہ جاری کیا ہے کہ امریکہ میں ایک ایسا خفیہ نگرانی کا نظام تشکیل پا رہا ہے جس کا مقصد شہریوں کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھنا ہے۔ اس نظام میں فلاک لائسنس پلیٹ کیمرے، جدید ترین فیس ریکگنیشن ٹیکنالوجی اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز کا قیام شامل ہے، جو ایک منظم جال کی طرح کام کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجیز بظاہر سیکیورٹی کے نام پر متعارف کرائی جا رہی ہیں مگر ان کا گہرا اثر انفرادی آزادیوں پر پڑ رہا ہے۔ ڈگ کیسی کا ماننا ہے کہ یہ سب الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک وسیع تر منصوبے کے حصے ہیں جس کے ذریعے ریاست اپنے شہریوں کی زندگیوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔ خاص طور پر ڈیجیٹل شناخت (Digital ID) کے پروپوزلز اس عمل کو مزید تیز کر رہے ہیں، جس سے ہر فرد کا ڈیٹا مرکزی کنٹرول میں آ جائے گا۔ امریکہ میں جہاں ماضی میں انفرادی آزادی کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی، اب وہاں اس طرح کے نگرانی کے نظاموں کا قیام ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جسے نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔ شہریوں کی نجی زندگی اب صرف ایک ڈیجیٹل ریکارڈ بن کر رہ گئی ہے جسے کسی بھی وقت حکومتی ادارے نگرانی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے نام پر ہونے والی اس پیش رفت نے معاشرے میں عدم تحفظ کے احساس کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر اس رجحان کو بروقت نہ روکا گیا تو آنے والے وقتوں میں نجی زندگی کا تصور مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے ماہرین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ جب ریاستیں نگرانی کے لیے جدید ترین الگورتھمز کا استعمال شروع کر دیتی ہیں تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ڈگ کیسی کے مطابق امریکہ میں یہ انفراسٹرکچر خاموشی سے پھیل رہا ہے جس کے نتائج طویل المدتی طور پر جمہوری اقدار کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکی عوامی حلقے اس ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کے خلاف کس حد تک مزاحمت کرتے ہیں اور آیا قانون ساز ادارے اس حوالے سے کوئی ضابطہ اخلاق مرتب کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔