LIVE
Loading Breaking News...

ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر میں تیزی کے لیے حکومت کا نیا اقدام

News Image
حکومت نے ڈیٹا سینٹرز کے تعمیراتی کام کو تیز کرنے کے لیے ایک نئی پالیسی متعارف کروائی ہے جس کے تحت سخت ہدایات پر عمل کرنے والے بلڈرز کو مراعات دی جائیں گی۔ یہ اقدام ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو فروغ دینے اور ماحولیاتی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
حکومت نے ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو وسعت دینے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک جامع سرکاری پہل کا آغاز کیا گیا ہے جس کا مقصد ڈیٹا سینٹرز کے قیام میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت ان تمام بلڈرز اور ڈویلپرز کو خصوصی مراعات فراہم کی جائیں گی جو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ تازہ ترین رہنما خطوط اور ضابطہ اخلاق کی مکمل پاسداری کریں گے۔ حکام کے مطابق، اس اقدام کا بنیادی مقصد نہ صرف تیز رفتار تعمیرات کو یقینی بنانا ہے بلکہ ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کی بچت کے عالمی معیار کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے خواہشمند اداروں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ توانائی کے مؤثر استعمال اور ماحول دوست طریقوں کو اپنی پراجیکٹس میں شامل کریں۔ جو ادارے ان اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہوں گے، ان کے منصوبوں کو حکومت کی جانب سے 'فاسٹ ٹریک' زون میں رکھا جائے گا اور ان کی منظوری کے عمل کو نمایاں طور پر سہل بنایا جائے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پالیسی ملک میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا ہینڈلنگ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔ دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی طلب میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے، اور پاکستان جیسے ابھرتی ہوئی معیشت والے ممالک کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے تکنیکی بنیادی ڈھانچے کو جدید ترین تقاضوں کے مطابق ڈھالیں۔ نئی حکومتی ہدایات سے نہ صرف مقامی سطح پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ بین الاقوامی ٹیک کمپنیوں کے لیے بھی یہاں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے۔ متعلقہ محکمے اس بات کو بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ ضوابط پر عمل درآمد کا عمل شفاف ہو تاکہ کسی بھی قسم کی تاخیر سے بچا جا سکے۔ اس پوری حکمت عملی کا مقصد ایک ایسا پائیدار اور تیز رفتار نظام وضع کرنا ہے جو ملک کو ڈیجیٹل مستقبل کی طرف لے جانے میں مددگار ثابت ہو۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس پہل کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے اور متعدد نئے ڈیٹا سینٹرز کے منصوبے بروقت مکمل کیے جا سکیں گے۔