AI
اے آئی ایجنٹس کے خطرات: کانگریس کا اینتھروپک اور اوپن اے آئی کو خط
امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹک قانون سازوں نے اینتھروپک اور اوپن اے آئی کے سربراہان کو خط لکھ کر خود مختار مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس سے لاحق خطرات پر جواب طلب کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اے آئی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے وفاقی سطح پر اقدامات کا جائزہ لینا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹک قانون سازوں نے مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنیوں اینتھروپک (Anthropic) اور اوپن اے آئی (OpenAI) کے سربراہان کو خطوط ارسال کیے ہیں جن میں خود مختار اے آئی ایجنٹس (autonomous AI agents) سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ 10 اگست 2026 کو اٹھائے گئے اس اقدام کو کانگریس کی جانب سے خود مختار اے آئی ٹیکنالوجی کے مخصوص خطرات پر پہلا براہ راست پارلیمانی رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔ قانون سازوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جدید اے آئی سسٹمز اب اس نہج پر پہنچ رہے ہیں جہاں وہ انسانی مداخلت کے بغیر خودمختارانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
خط میں اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم ألٹمن سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے سسٹمز میں سکیورٹی کے ضوابط اور حفاظتی تدابیر کی تفصیلات فراہم کریں۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مصنوعی ذہانت کی صنعت میں وفاقی سطح پر ریگولیشن اور نگرانی کا ایک خلا موجود ہے جسے پُر کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ اے آئی ایجنٹس کی خود مختاری نہ صرف سائبر سکیورٹی بلکہ معاشرتی اور معاشی سطح پر بھی بڑے چیلنجز کھڑے کر سکتی ہے، جن سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور قانون سازوں کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔
اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن میں پالیسی ساز اب مصنوعی ذہانت کے ممکنہ غلط استعمال یا غیر متوقع نتائج کو لے کر زیادہ سنجیدہ ہو رہے ہیں۔ ماضی میں اے آئی کے عام ماڈلز پر تو بحث ہوتی رہی ہے لیکن اب توجہ کا مرکز ایسے ایجنٹس ہیں جو طویل مدتی کام خود بخود انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے مستقبل میں ایک جامع اور مؤثر فریم ورک بنانے میں مدد ملے گی، جو جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کو محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔