LIVE
Loading Breaking News...

ایران کشیدگی: تیل کی قیمتوں میں تیزی اور بانڈ ییلڈز بلند

News Image
مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازع کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں نوے ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ اس صورتحال نے توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے جس سے بانڈ ییلڈز میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
عالمی منڈی میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازع کے تناظر میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ آئل کی قیمت نوے ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے کیونکہ تہران کی جانب سے عبوری معاہدے میں توسیع کو مسترد کرتے ہوئے تنازع کو بڑھانے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ اس جغرافیائی سیاسی صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے اور سرمایہ کاروں کے درمیان سپلائی کے ممکنہ تعطل سے متعلق خدشات گہرے ہو گئے ہیں۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں بھی سست روی دیکھی جا رہی ہے، جو کہ عالمی سپلائی چین کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ اس بحران کا اثر صرف تیل کی مارکیٹ تک محدود نہیں ہے بلکہ مالیاتی منڈیوں میں بھی اس کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی بانڈ ییلڈز میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ مہنگائی کے خدشات اور مرکزی بینکوں کی متوقع مانیٹری پالیسیوں میں تبدیلی ہے۔ سرمایہ کار اس کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اگر یہ صورتحال طویل ہوتی ہے تو عالمی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کی لہر میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومتی اور بین الاقوامی سطح پر اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ توانائی کے تسلسل کو برقرار رکھا جا سکے اور عالمی معیشت کو کسی بڑے جھٹکے سے بچایا جا سکے، تاہم مارکیٹ میں تاحال غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے۔